پاکستان: اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ جاری نہیں کیا کرتے

امریکی نائب صدر مائیک پینس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی نائب صدر مائیک پینس کے پاکستان کے بارے میں بگرام کے ہوائی اڈے پر دیے جانے والے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ جاری نہیں کیا کرتے، تنبیہ دراصل ان عناصر کو کی جانی چاہیے جو منشیات کی پیداوار میں زبردست اضافے، لاقانون علاقوں میں توسیع، صنعتی پیمانے پر بدعنوانی، گورننس کے خاتمے اور داعش کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع دینے کا باعث بن رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اصل ضرورت امن اور مصالحت پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔

اس سے پہلے افغانستان پہنچنے پر امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی حکومت کے خلاف لڑنے والے گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے۔

جمعرات کی رات کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر امریکی نائب صدر نے کہا کہ’پاکستان نے ایک لمبے عرصے تک طالبان اور متعدد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں تاہم اب وہ دن گزر چکے ہیں۔‘

بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے بات کرتے ہوئے مائیک پینس کا مزید کہنا تھا کہ’ہم نے اس جنگ کو اپنی شرائط کے ساتھ جیتنے کا عزم کر رکھا ہے اور ہم اپنے اتحادوں کے ساتھ مل کر افغانستان آئے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو آزادی دلائیں اور دہشت گردوں کو روک سکیں کہ وہ کبھی بھی دوبارہ ہماری سرزمین کے لیے خطرہ نہ بن سکیں، ہم اس جنگ میں شامل رہے ہیں اور ہم اس کے ذریعے اس کا اختتام دیکھیں گے۔‘

اسی بارے میں مزید پڑھیے

پاکستان امریکہ تعلقات میں ’ڈو مور‘ کا نیا ایڈیشن

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا‘

امریکی کانگرس میں پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ

حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی

’کارروائی ہو گی تو پاکستان کی سنجیدگی کا پتا چلے گا‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی نائب صدر نے کہا کہ’پاکستان کے پاس امریکہ کے ساتھ شراکت کی صورت میں بہت کچھ حاصل کرنے کو ہے اور دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کے سلسلے کو جاری رکھنے پر بہت کچھ کھونے کو ہے۔‘

واشنٹگن افغانستان کے بارے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں افغانستان میں اضافی امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا جو حکم دیا تھا اس کے نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا ’امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

اس خطاب کے ردعمل میں پاکستان نے کہا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی میں پاکستان پر غیر مصدقہ الزامات لگائے گئے ہیں اور پاکستان ایسے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے جو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور قربانیوں کی نفی کرنے کے مترادف ہیں۔

اسی بارے میں