ٹرمپ کے اعلانِ یروشلم پر تنازع

حذر کرو میرے غصے سے، حذر کرو میری بھوک سے!

یروشلم تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ ایک زمانے میں اقوامِ متحدہ نے اسے اپنی تولیت میں لینے کی تجویز بھی پیش کی تھی، لیکن اب تو اس زمانے کو بھی بہت سے زمانے گزر گئے اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا۔

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

امریکہ کے صدر منتخب ہونے سے صرف آٹھ ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں اسرائیلی لابی کے سب سے طاقتور گروپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری توانائی کے معاہدے کو ختم اور امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیں گے۔

ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکی پالیسی، دو ریاستی حل، سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل ہے کیا چیز؟

امریکی سفارتخانہ پہلے یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

'یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995' آٹھ نومبر 1995 کو منظور کیا گیا اور اس قانون کے تحت امریکی سفارتخانے کو اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم منتقل ضرور ہونا چاہیے۔