دنیا امن چاہتی ہے ہلاکتیں نہیں: صدر ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا امن چاہتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ پابندیوں کے حق میں ووٹوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’دنیا امن چاہتی ہے ہلاکتیں نہیں۔‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے حالیہ بیلسٹک میزائل تجربوں کے جواب میں اس پر مزید سخت پابندیاں لگانے کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے۔

امریکی قرارداد کے مسودے میں شمالی کوریا کی تمام تیار پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 90 فیصد تک کم کرنا شامل ہے۔

چین اور روس جو کہ شمالی کوریا کے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

شمالی کوریا کے بارے میں مزید پڑھیے

’شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کی دوڑ میں شامل ہیں‘

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

’ہمیں مت آزمائیں‘، ٹرمپ کی شمالی کوریا کو تنبیہ

شمالی کوریا کا تین ہفتوں میں تیسرا میزائل تجربہ

گذشتہ ماہ شمالی کوریا نے ان پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور اسے 'ظالمانہ پابندیاں' قرار دیا تھا۔

نئی پابندیوں کی چین نے بھی حمایت کی ہے تاہم بیجنگ نے کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کی اپیل بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا پر پہلے ہی امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے کافی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

امریکہ 2008 سے شمالی کوریا پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے منسلک افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نیکی ہیلی کا کہنا ہے کہ ’ان پابندیوں سے شمالی کوریا کو واضح پیغام دیا جائے گا کہ مزید خلاف ورزی کرنے پر اسے مزید سزائیں اور علیحدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد میں بیرون ملک کام کرنے والے شمالی کوریا کی افرادی قوت کو ایک سال کے اندر اندر واپس بھیجوانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر رائے شماری سے قبل شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا امریکہ کے لیے حقیقت میں ایک بڑا جوہری خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جانگ اُن نے کہا کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے بین الاقوامی سیاست میں اُن کے اثرو رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربات کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اب اس کے میزائل کی رینج میں ہے۔

اسی بارے میں