شام: کینسر میں مبتلا بچے علاج کے لیے صدر کی اجازت کے منتظر

رامہ تصویر کے کاپی رائٹ OUSSM
Image caption چار سالہ رامہ جو کہ لمفوما کا شکار ہیں کو آٹھ ماہ پہلے دوا ملی تھی۔

شام کے صدر بشارالاشد ایک ایسی درخواست پر غور کر رہے ہیں جو کینسر میں مبتلا سات بچوں کے فوجی محاصرے میں موجود علاقے، مشرقی غوطۃ سے انخلا سے متعلق ہے۔

برطانوی خیراتی ادارے کے ایک مشیر ہمیش دی بریٹن گورڈن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر اسد کے پرائیویٹ دفتر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

یہ سات بچے مشرقی غوطۃ میں موجود ان 130 بچوں میں شامل ہیں جنھیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ دمشق کے نواحی علاقے گذشتہ چار برس سے فوج کے زیر قبضہ ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا تھا کہ 'مشرقی غوطۃ میں زندگی 'ناممکن' ہوتی جا رہی ہے، اور وہاں صورتحال 'خطرناک نقطے پر پہنچ چکی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UOSSM
Image caption رامہ خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور ان کے گلے میں مہلک ٹیومر ہے

یاد رہے کہ اقوام متحدہ وہاں سے طبی بنیادوں پر متاثرین کے انخلا کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اب تک درجنوں شہری حالیہ دنوں کی حکومتی بمباری سے ہلاک ہوئے اور بہت سے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

مشرقی غوطۃ میں کام کرنے والے طبی ادارے یونیئن آف میڈیکل کیئر اینڈ ریلیف آرگنائزیشن کے معاون بریٹن گورڈن نے بتایا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ صدر اسد اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان سے براہ راست بات چیت کے لیے انھیں منگل کو دوبارہ فون کریں گے۔'

یہ بھی پڑھیے

شام میں مبینہ کیمیائی حملہ، 'کم از کم 58 ہلاک'

شام: محفوظ زونز کے معاہدے کے بعد کشیدگی کی اطلاعات

روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ٹرمپ

وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہیں تو ہمارا پلان یہی ہے کہ جتنی جلد ہو سکے بچوں تک پہنچ جائیں۔

اگر ان سات بچوں میں چار سالہ رامہ بھی شامل ہے جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور ان کے گلے میں مہلک ٹیومر ہے۔

گذشتہ بار انھیں آٹھ ماہ قبل اسی خیراتی ادارے نے طبی سہولت دی تھی۔

مسٹر بریٹن گورڈن کا کہنا ہے کہ انھیں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ رامہ اور دیگر بچوں کا شام سمیت بیرون ملک کسی بھی جگہ علاج کروایا جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gety
Image caption ننھے کریم کی والدہ کی وفات کے بعد ان کی چچی اور بہنیں اس کا خیال رکھتی ہیں۔

لیکن اس ممکنہ انخلا میں غوطۃ کے دیگر بچے شامل نہیں ہوں گے۔ جن میں دو ماہ کا کریم بھی شامل ہے جس کی ایک آنکھ کی بینائی اس وقت چلی گئی جب وہ حکومتی حملے میں زخمی ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کریم کی تصاویر نے شامی بچوں کی حالت زار کے بارے میں دنیا کو آگاہ کیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ایک آنکھ پر پردہ ڈال اس معاملے کی جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ہتھیاروں سے لیس مرد خطرے میں گھرے ان افراد تک رسائی کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ شہریوں پر حملے کر رہے ہیں جن میں سکول اور ہسپتال بھی شامل ہیں۔

انھوں نے ایران اور روس سے کہا کہ وہ ان افراد کو علاقے سے جانے کی اجازت کے لیے ان پر دباؤ ڈالیں۔

اقوام متحدہ کے کواڈینیٹر برائے انسانی حقوق نے بتایا تھا کہ گذشتہ ماہ نو ایسے افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جن کی طبی امداد کے لیے انخلا کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مشرقی غوطۃ میں موجود 12 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ تعداد شامی جنگ کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا کہ انھوں نے شامی ریڈ کریسنٹ کے ساتھ ملکر چار لاکھ شہریوں کو جو خوراک پہنچائی وہ ناکافی تھی۔

اسی بارے میں