اماراتی ایئرلائنز کے طیاروں کی لینڈنگ پر تیونس کی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تیونس کے ہوائی اڈے پر اماراتی ایئر لائنز کے طیاروں کو لینڈنگ سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ اس سے قبل کچھ تیونسی خواتین کو اماراتی طیاروں میں داخلے سے روکنا بنی۔

تیونس میں انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کی جا رہی ہے اور اسے ’متعصبانہ اور نسل پرستی‘ پر مبنی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اماراتی ایئرلائنز بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے مطابق طریقہ کار نہیں اپناتیں۔

یو اے ای کا کہنا ہے کہ یہ تعطل 'سکیورٹی معلومات' کی وجہ سے آیا تھا۔

امارات کے وزیر خارجہ انور گرگاش نے اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ 'ہم نے اپنے تیونسی بھائیوں سے ان سکیورٹی معلومات کے لیے رابطہ کیا جو مخصوص طریقہ کار کے لیے ضروری تھے۔'

ہم تیونس کی خواتین کی بہت قدر اور عزت کرتے ہیں۔

تیونس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای نے ہماری ملکی خواتین کو اپنی حدود سے گزرنے اور پرواز کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کو تیونیسیا کی حکومت نے کہا تھا کہ ’یو اے ای کے سفیر سے وضاحت طلب کی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ عارضی اقدامات ہیں اور یہ پہلے ہی اٹھا لیے جا چکے ہیں۔‘

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ دوبئی سے اماراتی فلائٹس میں کئی دنوں سے تیونس سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بورڈنگ بند ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کچھ تیونسی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا یو اے ای کا سفر تعطل کا شکار ہے اور ان کے ویزے کا بھی اضافی جائمہ لیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ تیونس میں سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد یو اے ای سے اس کے تعلقات خراب ہو گئے تھے جنھیں تیونس بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں