شمالی کوریا پر نئی پابندیاں 'جنگ کے مترادف'

میزائل تجربے کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ KCNA

شمالی کوریا نے میزائل تجربے کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ پابندیوں کو 'جنگی اقدام' قرار دیا ہے۔

جبکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پابندیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے 'دنیا کی امن کی خواہش' سے تعبیر کیا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ تازہ پابندیاں مکمل اقتصادی پابندی کے مترادف ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے مزاحمت کو مضبوطی فراہم کرنے کے عمل نے امریکہ کو مایوس کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جمعے کو پیانگ یانگ کی جانب سے میزائل تجربے کے جواب میں یہ نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکی قرارداد کے مسودے میں شمالی کوریا کی تمام تیار پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 90 فیصد تک کم کرنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے سے بین الاقوامی سیاست میں اُن کے اثرو رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

چین اور روس جو کہ شمالی کوریا کے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ شمالی کوریا پر پہلے سے ہی امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے کئی قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

٭ دنیا امن چاہتی ہے ہلاکتیں نہیں: صدر ٹرمپ

٭ ’شمالی کوریا امریکہ کے لیے حقیقت میں ایک بڑا جوہری خطرہ‘

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندیوں کو 'جنگجویانہ' کہا گیا ہے کیونکہ یہ 'جمہوریہ کی خود مختاری کی شدید پامالی اور جنگی قدم ہے جس سے کوریا جزیرہ نما اور وسیع خطے میں امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'امریکہ مکمل طور پر عظیم تاریخی مقاصد کے لیے ریاست کی جوہری قوت کی تکمیل پر مکمل طور پر خوفزدہ ہے اور یہ ہمارے ملک پر ڈباؤ ڈالنے کے لیے سخت سے سخت قسم کی پابندیای عائد کرنے کے جنون میں بہت زیادہ مبتلا ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نیکی ہیلی کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی مزید خلاف ورزی کرنے پر شمالی کوریا کو مزید سزائیں اور علیحدگی کا سامنا کرنا پڑے گا

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہم اپنے دفاع کے لیے جوہری مزاحمت کو مزید مستحکم کریں گے تاکہ بنیادی طور پر امریکہ کی جوہری دھمکیاں، بلیک میلنگ اور دشمنانہ چال کا ڈر ختم ہو جائے۔ اور اس کے لیے امریکہ کے مقابلے میں ہم عملی طور پر قوت کا توازن قائم کریں گے۔'

گذشتہ ماہ شمالی کوریا نے ان پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور اسے 'ظالمانہ پابندیاں' قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

٭ شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی تازہ پابندیاں عائد

٭ شمالی کوریا امریکہ کو ’شدید درد پہنچائے گا‘

نئی پابندیوں کی چین نے بھی حمایت کی ہے تاہم بیجنگ نے کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کی اپیل بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا پر پہلے ہی امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے کافی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

امریکہ 2008 سے شمالی کوریا پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے منسلک افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں