آسٹریلیا کی دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی ختم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلیا مشرق وسطی میں دولت اسلامیہ کے خلاف استعمال کیے جانے والے چھ سپرہارنیٹ جنگی طیارے واپس بلالے گا

آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ عراق اور شام میں نام نہاد شدت پسند اسلامیہ گروپ کو اہداف بنا کر فضائی حملے کرنا بند کردے گا۔

وہاں سے چھ ہارنیٹ طیارے واپس بلالیے جائیں گے البتہ عراق کی درخواست پر ایندھن بھرنے اور نگرانی والے طیارے وہیں رہیں گے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا ایک بین الاقوامی اتحاد کے حصے کے طور پرگذشتہ دو برس سے زیادہ عرصے سے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتا رہا ہے۔

وزیر دفاع معغیز پین نے کہا ہے کہ یہ اقدامات دولت اسلامیہ کے خلاف عراق کی حالیہ فتح کے اعلان کے بعد لیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے متعلق عراق اور دیگر اتحادیوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دولت اسلامیہ کو مکمل شکست دے دی ہے: عراق کا دعویٰ

'دولت اسلامیہ کی شکست کے لیے بدعنوانی کا خاتمہ ضروری'

آسٹریلیوی شدت پسند پرکاش ’اب بھی زندہ ہے‘

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں بننے والے اتحاد کے ایک حصے کے طور پر عراق اور شام میں 780 فوجی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔

مس پین نے کہا کہ 'میدان جنگ میں عراقی سیکیورٹی فورسز کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کی شراکت داری اب منتقلی کے موڑ پر ہے۔'

انھوں نے کہا کہ' عراق اور بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ بات چیت کے بعد آسٹریلیا کی حکومت مشرق وسطی سے اپنے چھ سپرہارنیٹ جنگی طیارے واپس ملک لانے کے لیے پرعزم ہے۔'

آسٹریلوی وزیر دفاع نے اس مہم کو طویل اور 'سفاکانہ' قرار دیتے ہوئے اس میں حصہ لینے والے آسٹریلوی شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ دو ہفتے قبل عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ عراقی افواج نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلاميہ تنظيم کے خلاف جنگ ميں مکمل فتح حاصل کرلی ہے اور عراق اور شام کی سرحد اب مکمل طور پر عراقی فوجی دستوں کے ہاتھ میں ہے۔

امریکہ نے دولت اسلامیہ کے قبضے کے خاتمے کا خیر مقدم کیا تھا لیکن کہا تھا کہ دولت اسلامیہ گروپ کے خلاف جنگ جاری رکھی جائےگی۔

اسی بارے میں