یروشلم کے معاملے پر مذاکرات کا خواہاں ہوں: پوپ فرانسز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کيتھولک مسيحی پيشوا پوپ فرانسز نے کرسمس کے موقعے پر اپنے روایتی خطاب میں کہا ہے کہ وہ یروشلم کے معاملے پر امن کے خواہاں ہیں اور انھوں نے اسرائیلوں اور فلسھینیوں کے درمیان مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے ’مذاکرات سے تیار کردہ حل۔۔۔ جو دو ریاستوں کو امن کے ساتھ رہنے دے‘ کی سوچ کی حوصلہ افزائی کی۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی برادری نے اس فیصلے پر منفی ردِ عمل ظاہر کیا۔

گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔

قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ 'باطل اور کالعدم' ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔

پوپ فرانسز نے سینٹ پیٹرز سکوئر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس خوشی کے موقعے پر ہم رب سے یروشلم اور مکمل ہولی لینڈ میں امن کے لیے دعاگو ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دعا کرتے ہیں کہ فریقین میں مذاکرات بحال کرنے کی خواہش کامیاب ہو جائے اور یہ کہ ایک مذاکراتی سے تیار کردہ حل مل جائے جو کہ دو ریاستوں کو پرامن طریقہ سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ سرحدوں میں رہنے دے۔‘

یاد رہے کہ گوئٹے مالا کے صدر جمی موریلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

یروشلم کی اہمیت

یہ دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔

مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔

مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔

فلسطینی اور اسرائیلی تنازعے کے مرکز میں قدیم یروشلم شہر ہی ہے۔ یہاں کے حالات میں معمولی سی تبدیلی بھی کئی بار تشدد اور بڑی کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یروشلم میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اہم ہو جاتا ہے۔

یہ شہر نہ صرف مذہبی طور پر اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

زیادہ تر اسرائیلی یروشلم کو غیر منقسم اور بلا شرکت غیرے اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کا ایک ملک کے طور پر سنہ 1948 میں قیام عمل میں آیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ کو شہر کے مغربی حصے میں قائم کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کر لیا۔

اس کے ساتھ قدیمی شہر بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس پر اسرائیلی رہنما اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

فلسطینیوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وہ مشرقی یروشلیم کو مستقبل کا اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اور اسرائیلی اور فلسطینی کے درمیان امن مذاکرات میں اس پر رضامندی کی بات بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں