’جنگی ہیروئن‘ اور کم جونگ اُن کی دادی کی صد سالہ سالگرہ کا جشن

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ KCNA

شمالی کوریا کی خواتین کے بارے میں عموماً لوگ کم ہی جانتے ہیں لیکن اس سال وہاں ’جنگی ہیروئن‘ کم جونگ سوک کی پیدائش کو سو سال مکمل ہونے پر جشن منایا جا رہا ہے۔

کم شمالی کوریا کی معمولی خاتون نہیں ہیں۔ وہ ملک کے بانی رہنما کم اُن سنگ کی اہلیہ تھیں اور ملک کے موجودہ رہنما کم جونگ اُن کی دادی تھیں۔

خیال ہے کہ اُن کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا اور وہ سنہ 1917 میں کرسمس کے موقع پر پیدا ہوئیں۔ کم نے 1930 میں جاپان سے ہونے والی لڑائی میں گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

وہ 1949 میں محض 31 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں اور کہا جاتا ہے کہ گوریلا کارروائی کے دوران زخم اُن کی جلد موت کی وجہ بنے۔

اُن کی سالگرہ کے موقع پر شمالی کوریا میں خوب جشن منایا جا رہا ہے اور میڈیا جنگ کے دوران اُن کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بڑھ چڑھ کر ذکر کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ کِم صرف ’غیر انقلابی خاتون‘ اور ’مقدسِ مادرِ انقلاب‘ ہی نہیں تھیں بلکہ وہ نشانہ بازی کی ماہر تھیں اور اُن کے ساتھی جنگجو اُن کی جانب سے چلائی گئی گولیوں کے خول سے مرنے والے دشمنوں کی تعداد کا اندازہ لگاتے تھے۔‘

شمالی کوریا نے جشن کے موقع پر نئے ڈاک ٹکٹ، سونے اور چاندی کے نئے سکے جاری کیے ہیں اور کم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ثقافتی شوز منعقد ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Korean Central TV

اطلاعات کے مطابق ’تین لاکھ سے زیادہ افسران، مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد، طالبِ علم اور غیر ملکی کم کی جائے پیدائش پر گئے‘۔

مقامی میڈیا میں کم جونگ سوک کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انھوں نے کم جونگ ال کی پرورش ابھرتے ہوئے سورج کی مانند کی تاکہ لوگوں کو خوشحال کریں اور اُن کی فلاح و بہبود کا کے لیے کام کر سکیں۔

شمالی کوریا میں اہم عہدوں پر تعینات خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور ملک کے رہنما کی بہن کم یو جونگ حکمران جماعت کی واحد خاتون رکن ہیں۔

سال 2015 مییں حکومت نے 23 سال تک کی عمر کی خواتین کے لیے عسکری تربیت کو لازمی قرار دیا ہے اور سابق فوجی خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں تربیت کے دوران مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں