یمن کی جنگ: ناروے کی متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فراہمی معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دارالحکومت صنعا میں فضائی حملے میں تباہ شدہ عمارت

ناروے نے متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں اور بارودی مواد کی فراہمی معطل کر دی ہے۔

ناروے کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس فیصلہ اس خدشہ کے پیشہ نظر کیا گیا ہے کہ یہ ہتھیار یمن میں جاری لڑائی کے دوران استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

یمن سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کا حصہ ہے جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یمن جنگ: سعودی اتحاد کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ

’ریاض، مکہ اور متحدہ عرب امارات ہماری رینج میں ہیں‘

’یمن میں ایرانی ہتھیار موجود نہیں، الزامات بے بنیاد ہیں‘

سعودی عرب اور ایران کی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟

یمن کے دارالحکومت صنعا کے زیادہ تر شمالی حصے پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یمن میں جاری لڑائی کی وجہ سے اب تک 8750 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ 30 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ہیں۔

ناروے کی وزراتِ خارجہ کے مطابق ’اگرچہ تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ناروے کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ یمن میں استعمال ہوا ہے تاہم متحدہ عرب امارات کی فوج کے یمنی کی جنگ میں شمولیت سے اس کا خطرہ موجود ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’یہ فیصلہ ناروے کی جانب سے کڑی احتیاط کو ظاہر کرتا ہے۔‘

ناروے کی جانب سے حالیہ برآمد کے اجازت نامہ عارضی طور پر کالعدم قرار دے دیے گئے ہیں اور حالیہ صورتحال میں کوئی نیا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ 19 دسمبر کو کیا لیکن اسے اب عام کیا گیا ہے۔

سنہ 2016 میں ناروے نے متحدہ عرب امارات کو 97 لاکھ ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے اور یہ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں دگنا تھے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور ناروے کی پارلیمان کے متعدد ارکان نے کئی مہینوں تک اسلحے کی فراہمی معطل کرنے کے لیے مہم چلائی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلاحی ادارے سیو دی چلڈرن کی ترجمان لائن ہیگنا نے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ہے کہ بالآخر حکومت نے ذمہ داری لیتے ہوئے ایک ایسے ملک کو ہتھیاروں کی فراہمی معطل کر دی ہے جو یمن میں سکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری میں شامل ہے۔‘

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو ہتھیاروں کی سپلائی پر برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں بحث جاری ہے۔

ناروے کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی اس ماہ کے آخر میں ملک کے اسحلے کی فروخت سے متعلق مباحثہ بھی کرے گی۔

اسی بارے میں