’واڈکا کی سب سے مہنگی بوتل‘ چوری ہو گئی

واڈکا تصویر کے کاپی رائٹ DARTZ MOTOR COMPANY

ڈنمارک میں پولیس دنیا کی سب سے مہنگی سمجھی جانے والی واڈکا کی چوری کی تفتیش کر رہی ہے جس کی قیمت تقریباً 13 لاکھ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔

یہ بوتل سونے اور چاندی سے بنی ہوئی تھی اور اس کے ڈھکن خول دار ہیرے کا تھا اور اسے کوپن ہیگن کی ایک بار میں ادھار رکھا گیا تھا جہاں مختلف قسم کی واڈکا کی بوتلیں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔

اس بار کے مالک برائن انگبرگ کا کہنا ہے کہ یہ بوتل معروف ٹی وی شو ہاوس آف کارڈز میں بھی دکھائی گئی تھی۔

سی سی ٹی وی سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص روسو بالٹیک واڈکا کو اٹھاتا ہے اور بار سے باہر بھاگ جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ منگل کی علی الصبح آنے والے یہ چور تالا توڑ کر داخل ہوا یا اس کے پاس چابی تھی۔

کیفے 33 بار کے مالک برائن انگبرگ نے نشریاتی ادارے ٹی وی ٹو کو بتایا کہ انھوں نے یہ بوتل لیٹویا میں قائم ڈرٹز موٹر کمپنی سے ادھار لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ گذشتہ چھ ماہ سے میری جمع کی ہوئی بوتلوں کا حصہ تھی لیکن اب ایسا نہیں رہا۔‘

اس بارے میں خیال ہے کہ روس کی لگژری گاڑیاں بنانے والی کمپنی روسو بالٹیک نے اپنی کمپنی کے قیام کے سو سال پورے ہونے پر یہ واڈکا تیار کی تھی۔

اس بوتل کا سامنے والا حصہ چمڑے سے سجا ہوا تھا اور روسو بالٹیک گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ریڈی ایٹر گارڈ کی نقل بھی اس پر لگی ہوئی تھی۔

اس کا ڈھکن روسی شاہی عقاب کی شکل کا تھا اور اس میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔

برائن انگبرگ کا کہنا تھا کہ یہ بوتل ہاوس آف کارڈز کی ایک قسط میں روسی صدر کی جانب سے ان کے امریکی ہم منصب کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی۔

دوسری جانب گاڑیاں بنانے والی کمپنی ڈرٹز کے بانی لیونارڈ ینکیلووچ نے بی بی سی بتایا کہ وہ پرامید ہے کہ انھیں یہ بوتل واپس مل جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں