کیا واقعی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کوئی جوہری بٹن ہے؟

جوہری فٹبال تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ’جوہری بٹن‘ ہے لیکن کیا واقعی ان کے پاس وہ بٹن ہے؟

یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنا دراصل ٹی وی چینل کو تبدیل کرنے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں بسکٹ اور فٹ بال شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کوئی سچ مُچ کا جوہری بٹن نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ٹرمپ، جوہری ہتھیار اور تحفظات

ٹرمپ کی کِم کو دھمکی: 'میرا جوہری بٹن بڑا اور طاقتور ہے اور کام بھی کرتا ہے'

جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت میز پر ہوتا ہے: کم جونگ

ایٹمی حملے کا حکم کن کن صورتوں میں کون کون دے سکتا ہے

تو پھر ان کے پاس کیا ہے؟

گذشتہ سال 20 جنوری کو ایک فوجی معاون سابق امریکی صدر براک اوباما کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایک چمڑے کا بیگ لے کر گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امریکی صدر حلف اٹھانے کے بعد وہ فوجی معاون اس چمڑے کے بیگ کے ہمراہ اس جانب چلا گیا جہاں ٹرمپ کھڑے تھے۔

چمڑے کا یہ بیگ 'دی نیوکلیئر فٹ بال' کے نام سے مشہور ہے۔

امریکی کے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے لیے اس ’جوہری فٹبال‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگست میں ایک ماہر نے سی این این کو بتایا تھا کہ جب ٹرمپ گالف کھیلتے ہیں تو یہ 'دی نیوکلیئر فٹ بال' ایک چھوٹی گاڑی میں ان کا پیچھا کرتا ہے۔

فٹبال میں ہے کیا؟

اگر عوام کبھی اس جوہری فٹبال کے اندر جھانکیں تو وہ مایوس ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ کوئی بٹن نہیں ہے اور وہاں کوئی گھڑی نہیں ہے۔ اس کے بجائے وہاں مواصلاتی آلات اور کتابیں ہیں جن میں تیار جنگی منصوبے ہوتے ہیں۔

ان منصوبوں کو فوری فیصلہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سنہ 1980 میں وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ڈائریکٹر ملڑی آفیسر بل گللے نے کہا تھا کہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ جوابی کارروائی ’کم، درمیانے یا شدید درجے‘ کی ہوگی۔

تو پھر بسکٹ کیا ہے؟

’بسکٹ‘ ایک ایسا کارڈ ہے جس میں کوڈ ہوتے ہیں۔ صدر کو ہمیشہ یہ کارڈ اپنے ساتھ رکھنا ہوتا ہے۔ یہ فٹبال سے الگ ہوتا ہے۔

اگر امریکی صدر کو حملہ کرنے کا حکم دینا ہو تو وہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے کوڈ استعمال کرے گا۔

امریکی کا صدر بن جانے کے بعد اے بی سی نیوز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ ’بسکٹ‘ وصول کرنے کے بعد کیسا محسوس کرتے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے جواب دیا ’جب وہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے اور اس طرح کی تباہی جس کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں یہ ایک بہت ہی ہوش مندی کا لمحہ ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ بہت زیادہ خوفناک ہے۔‘

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے ایک فوجی معاون رابرٹ پیٹرسن نے دعویٰ کیا کہ کلنٹن نے ان کوڈز کو گم کر دیا تھا۔

ان کے مطابق کلنٹن اس بسکٹ کو اپنی پینٹ کی جیب میں اپنی کریڈٹ کارڈز کے ہمراہ ایک ربر بینڈ میں رکھتے تھے۔

رابرٹ پیٹرسن کے مطابق ایک صبح جب مونیکا لیونسکی کا سکینڈل منظرِ عام پر آیا تو کلنٹن نے تسلیم کیا کہ انھوں نے کچھ وقت کے لیے یہ کوڈز نہیں دیکھے تھے۔

امریکہ کے ایک اور اعلیٰ اہلکار جنرل ہیگ شیلٹن نے بھی دعویٰ کیا کہ ’کلنٹن نے چند ماہ کے لیے بسکٹ گما دیے تھے۔‘

امریکی صدر کس طرح جوہری حملہ کرنے کا حکم دے گا؟

صرف امریکی صدر ہی جوہری حملے کا حکم دے سکتا ہے۔

امریکی صدر اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بعد چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف کو اس کا حکم دیتا ہے۔ امریکی فوج میں چیئرمین جوائنٹس چیفس آف سٹاف اعلیٰ ترین آفیسر ہوتا ہے۔

اس کے بعد یہ حکم نبراسکا میں قائم امریکی سٹریٹیجک کمانڈ ہیڈکوارٹر آفٹ ایئر بیس میں جاتا ہے۔

جس کے بعد وہ اسے ’زمین پر موجود‘ ٹیم کو دیتے ہیں۔ (یہ ٹیمیں سمندر یا زیرِ سمندر ہو سکتی ہیں۔)

جوہری ہتھیاروں کو چلانے کا یہ حکم کوڈز کے ذریعے دیا جاتا ہے جن کی لانچ ٹیم کے سیف میں موجود کوڈز کے ساتھ مماثلت ضروری ہے۔

کیا صدر کی حکم عدولی کی جا سکتی ہے؟

امریکی صدر فوج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ جو وہ کہتا ہے وہی ہوتا ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں 40 برسوں میں پہلی بار امریکی کانگریس نے امریکی صدر کے جوہری ہتھیار کو لانچ کرنے کے اختیارات کا معائنہ کیا تھا۔

سنہ 2011 سے 2013 تک امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کے ایک ماہر سی رابرٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ جیسا کہ ان کی تربیت کی گئی ہے وہ امریکی صدر کے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے حکم کی صرف اس صورت میں پیروی کریں گے جب وہ قانونی ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مخصوص حالات میں میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر عمل نہیں کر سکتا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ’اس کے بعد کیا ہو گا؟’ ان کا جواب تھا ’میں نہیں جانتا‘۔ ان کے جواب پر کمیٹی ارکان ہنس دے تھے۔

اسی بارے میں