’دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد روک دی‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی انتظامیہ پہلے ہی پاکستان کو 255 ملین امریکی ڈالر کی امداد روکنے کا عندیہ دے چکی تھی

امریکہ کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو یہ بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔

محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا امداد کی فراہمی کا سلسلہ منجمد رہے گا۔

جمعرات کو محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نیورٹ نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ 'آج ہم اس وقت یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ جب تک پاکستانی حکومت افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی ہم پاکستان کی سکیورٹی امداد معطل کر رہے ہیں۔ ہم ان گروہوں کو خطے میں عدم استحکام اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ معطل کی جانے والی امداد کی رقم کے بارے میں نہیں بتا سکتیں کیونکہ انتظامیہ تاحال اس فیصلے سے متاثر ہونے والی امداد کی اقسام کا حساب کر رہی ہے۔

ترجمان محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ کچھ امداد اسلام آباد کو فراہم کی جاسکتی ہے اگر وہ ان گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ روکی جانے والی امداد کے بارے میں آئندہ سال ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاہم یہ رقم کہیں اور صرف نہیں کی جائے گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی انتظامیہ پاکستان کو 255 ملین امریکی ڈالر کی عسکری امداد روکنے کا عندیہ دے چکی تھی۔

اسی بارے میں پڑھیں!

’امریکہ اور انڈیا کے دباؤ پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں‘

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

’امریکہ انسداد دہشتگردی سیکھنے کے بجائے دشنام طرازی کر رہا ہے‘

محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگست میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد ہم پاکستان کی جانب سے ہماری درخواستوں پر ردِعمل کا جائزہ لے رہے تھے۔ جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی جانب سے ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ہم اس پر مزید دباؤ ڈالیں گے اور اس کی جانب سے مطلوبہ اقدامات نہ کرنے پر اپنے عدم اطمنان کا اظہار کریں گے۔

انھوں نے پاکستان سے کیے جانے والے مطالبات اور ان کی تکمیل کی پیمائش کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے کئی مرتبہ بات ہوئی ہے۔ جن میں واضح کیا گیا کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہ لیے جانے کے بعد محض ایک قدم کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ تاکہ پاکستانی حکومت کو یہ بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ'ہم پاکستان میں افغان طالبان کے ٹھکانوں، حقانی نیٹ ورک اور انڈیا مخالف تنظیموں، جیشن محمد اور لشکر طیبہ خصوصاً اس کے سربراہ حافظ سعید کے لیے مالی امداد اکھٹی کرنے کے معاملات پر اقدامت چاہتے ہیں۔ ہمیں ان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی خدشات ہیں۔ اب حالیہ امریکی انتظامہ نے محسوس کیا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو آٹو پائلٹ پر نہیں رکھنا چاہتے۔ ہمیں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔`

اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق محکمہ خارجہ کی ترجمان نے روکی جانے والی کل امداد کی کا تخمینہ نہیں بتایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خاصی بڑی رقم ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے ٹرمپ مخالف مظاہرے منعقد کیے گئے

اس سے قبل منگل کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکے جانے کی تصدیق کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مزید اقدامات کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز پر اپنی پہلی ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ 'امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ۔وہ ہمارے رہنماؤں کو بےوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا۔'

اسی بارے میں