کہیں شدید سردی اور کہیں جھلسا دینے والی گرمی

نیو یورک میں برف باری اور سڈنی میں ریکارڈ گرمی۔ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شدید ٹھنڈے اور گرم موسم سے پریشان ہیں امریکہ اور آسٹریلیا کے لوگ۔

ایک طرف مشرقی امریکہ میں ریکارڈ ٹھنڈ سے لوگ پریشان ہیں تو دوسری جانب آسٹریلیا کے سڈنی شہر میں گذشتہ اسی برس میں اتنی گرمی پہلی بار پڑ رہی ہے جس سے زندگیاں بری طرح متاثر ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ مشرقی امریکہ اور آسٹریلیا میں شدید موسم کی وجہ سے وہاں کے رہائشی کس قدر متاثر ہیں۔

اقوام متحدہ کے موسم سے متعلق محکمے این ایس ڈبلیو کے مطابق امریکی شہر نیو یارک میں چھ جنوری کو درجہ حرارت اب تک درج ریکارڈ میں سب سے نیچے پہنچ گیا جو کہ - 13Cہے۔

نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے سے ہزاروں کی تعداد میں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ مشرقی امریکہ کے دوسرے ہوائی اڈوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

چند مسافروں نے یہ بھی شکایات کی ہیں کہ انہیں بہت انتظار کرنا پڑا اور پرواز کے بعد ان کے بیگز ملنے میں بھی بہت وقت لگا۔

امریکہ کے میساچوسیٹس، مین، کنیٹیکٹ اور نیو ہیمپشر کے علاقے تقریباً ایک فٹ اونچی برف کی چادر سے ڈھک گئے ہیں۔

مشرقی کینیڈا کے اونٹاریو اور کیوبیک علاقوں میں تو درجہ حرارت 50 C - ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ٹورانٹو کے ہوائی اڈے پر بھی فلائٹوں میں تاخیر اور کینسل کیے جانے کے واقعے پیش آ رہے ہیں۔

دوسری جانب سڈنی میں شدید گرمی سے زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ شہر بھر میں ہزاروں افراد بے گھر افراد کو پانی کی بوتلیں بانٹ رہے ہیں۔

سڈنی میں منعقد بین الاقوامی ٹینس ٹورنامنٹ کو درجہ حرارت چالیس ڈگری ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔ جبکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ بھی کھلاڑیوں نے شدید گرمی برداشت کرتے ہوئے کھیلا۔ سڈنی کے ارد گرد کے علاقوں میں جنگل میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں