بی بی سی کی چین کی ایڈیٹر کیری گریسی نے تنخواہ میں عدم مساوات پر استعفیٰ دے دیا

Image caption بی بی سی کی چین کی سابق ایڈیٹر کیری گریسی چین کی سپیشلسٹ ہیں اور روانی سے مینڈرن بولتی ہیں

بی بی سی کی چین کی ایڈیٹر کیری گریسی نے مرد ایڈیٹروں کے مقابلے میں اپنی تنخواہ میں برابری نہ ہونے کی وجہ سے چین میں ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کے دوران جو وہ جان ہمفریز کے ساتھ پیش کر رہی تھیں، بتایا کہ ’ان کے استعفے کے ردِ عمل سے لگتا ہے کہ برابر، منصفانہ اور شفاف تنخواہ کے لیے گہری بھوک موجود ہے۔‘

بی بی سی میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تنخواہ کم

مردوں کے برابر تنخواہ: ’خواتین کو مزید 217 سال لگیں گے‘

خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک،عرب شہزادیوں پر مقدمہ

دنیا کے امیر ترین کھلاڑی

انھوں نہ کہا کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں، اراکانِ پارلیمان اور عوام کی حمایت سے وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔

بی بی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’خواتین کے خلاف کسی نظام کے تحت تفریق نہیں برتی جا رہی۔‘

بی بی سی کی براڈکاسٹر مشال حسین، لیز ڈوسٹ، کلیئر بالڈنگ، ایمیلی میٹلس اور سارہ مانٹیگیو نے کیری کی حمایت کی ہے، جبکہ چینل 4 کی پریزینٹر کیتھی نیومین، لیبر پارٹی کی ایم پی ہیرئٹ ہرمین اور جیس فلپس اور کنزروٹیو ایم پی نیدین ڈوریز نے بھی ان کے اس عمل کو سراہا ہے۔

بی بی سی کی یورپ کی ایڈیٹر کیٹی ایڈلر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’یہ بی بی سی کی بین الاقوامی نیوز کا ایک بڑا نقصان ہے۔ میں @bbccarrie کو مس کروں گی کیونکہ وہ غیر ملکی نیوز میں میرے علاوہ واحد خاتون ایڈیٹر ہیں۔‘

Image caption کیری گریسی گذشتہ 30 سال سے بی بی سی کے ساتھ منسلک ہیں

کیری گریسی نے جو 30 برس سے بی بی سی کے ساتھ منسلک ہیں، اتوار کو ایک کھلے خط میں بی بی سی پر الزام لگایا تھا کہ یہاں ایک ’خفیہ اور غیر قانونی تنخواہ دینے کا رواج ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کے دو تہائی سٹارز جو 150,000 پاؤنڈ سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں وہ مرد ہیں، بی بی سی کو ’بھروسے کے فقدان‘ کا سامنا ہے۔

انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انھوں نے بیجنگ بیورو میں ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن ٹی وی نیوز روم میں وہ اپنی پہلی پوسٹ پر واپس چلی جائیں گی، ’جہاں امید ہے کہ مجھے برابر تنخواہ ملے گی۔‘

گریسی نے جو چین کی سپیشلسٹ ہیں اور روانی سے مینڈرن بولتی ہیں، اپنے بلاگ میں شائع ہونے والی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’لائسنس فیس دینے والو، بی بی سی تمہاری ہے۔‘

’مجھے یقین ہے کہ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ (بی بی سی) برابری کا قانون توڑ رہی ہے اور منصفانہ اور شفاف تنخواہ کے ڈھانچے کے لیے دباؤ کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات پر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ بی بی سی کے دو مرد انٹرنیشنل ایڈیٹر دو خواتین ایڈیٹروں سے کم از کم 50 فیصد زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔

یہ پتہ چلا ہے کہ بی بی سی کے امریکہ کے ایڈیٹر جان سوپل دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کے درمیان جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر جیریمی باؤن ڈیڑھ سے دو لاکھ پاؤنڈ کے درمیان تنخواہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ 2010 کے برابری کے قانون کے مطابق جو مرد اور خواتین برابر کام کرتے ہیں انھیں برابر ہی تنخواہ ملنی چاہیئے۔

’لیکن گذشتہ جولائی مجھے پتہ چلا کہ پچھلے مالی سال ان دو مردوں نے دو عورتوں سے کم از کم 50 فیصد زیادہ کمایا۔‘

انھوں نے لکھا کہ جب انھوں نے بی بی سی کو کہا کہ چاروں انٹرنیشنل ایڈیٹروں کو برابر تنخواہ دینی چاہیئے تو بی بی سی نے میری تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا لیکن وہ بھی برابری سے بہت کم تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ خواتین سٹاف میں اب صبر اور خیر سگالی کا عنصر ختم ہوتا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کارپوریشن کے لیے تنخواہ میں غیر جانبداری اہم ہے۔

’کئی اداروں نے اب صنف کے حوالے سے تنخواہوں کے اعدادوشمار شائع کیے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم دوسروں سے کافی حد تک بہتر ہیں۔‘