شمالی و جنوبی کوریا کشیدگی کم کرنے پر رضامند، امریکہ کا خیرمقدم

شمالی و جنوبی کوریا کے وفود تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں ممالک فوجوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے 'ہاٹ لائن' کو بحال کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں

شمالی اور جنوبی کوریا کے اعلی ترین حکام دو برس بعد پہلی ملاقات میں مشترکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اصل مقصد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے صاف کرنا ہے۔

اس سے پہلے بات چیت میں جنوبی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے معاملے کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جسے شمالی کوریا نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

منگل کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت شمالی کوریا فروری میں جنوبی کوریا میں ہونے والے موسمِ سرما کے اولمپکس مقابلوں میں اپنے کھلاڑی بھیجنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت کے بیان کے مطابق دونوں ممالک فوجوں میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’ہاٹ لائن‘ کو بحال کرنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ جوہری تخفیف کے معاملے میں شمالی کوریا کے وفد کا رویہ منفی تھا۔

شمالی کوریا کا تجربہ: امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش

شمالی کوریا سے خطرہ، جنوبی کوریا میں امریکی دفاعی نظام

شمالی کوریا کا فوجی بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گیا

دو دن کے مذاکرات کے بعد منگل کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تعلقات میں بہتری کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری رکھنے کے علاوہ کچھ دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق کیا تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

شمالی کوریا نے جن معاملات پر اتفاق کیا ان میں اپنی قومی اولمپکس کمیٹی کے وفد کے دورے کے علاوہ کھلاڑیوں، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے والی چیئر لیڈرز، جسمانی کرتب دکھانے والے کھلاڑیوں، تماشائیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جنوبی کوریا بھیجنے پر رضامندی شامل ہے۔ جنوبی کوریا نے ان مہمانوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ان مذاکرات میں جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے ایسے جارحانہ اقدامات سے پرہیز کا بھی کہا ہے جن سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور شمالی کوریا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر پُرامن فضا قائم رکھنا ضروری ہے۔

مشترکہ بیان کے علاوہ ذرائع ابلاغ نے مذاکرات کی جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کے مطابق:

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے ایسے جارحانہ اقدامات سے پرہیز کا بھی کہا ہے جن سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے
  • جنوبی کوریا نے تجویز پیش کی ہے کہ اگلے ماہ کے سرمائی اولپمکس کی افتتاحی تقریب میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی اسی طرح اکٹھے گراؤنڈ میں داخل ہوں گے جیسے وہ سنہ 2006 کے اولمپکس میں ہوئے تھے۔
  • جنوبی کوریا نے مذاکرات میں زور دیا کہ کھیلوں کے دوران کوریائی قمری سال کی تعطیل کے دن کوریائی جنگ کے دوران ایک دوسرے سے بچھڑ جانے والے خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ملایا جائے۔
  • جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے کھلاڑیوں کی اولمپکس میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے شمالی کوریا پر لگی پابندیوں کو جنوبی کوریا اقوام متحدہ کے تعاون سےعارضی طور پر اٹھا لے گا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ان امور پر شمالی کوریا کے ردعمل کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مذاکرات کے بعد بیان دیتے ہوئے شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ کے ابتدائی الفاظ بالکل غیر جانبدارانہ تھے۔ ری سون گؤان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ’شمالی کوریا کا موقف مخلصانہ اور سنجیدگی پر مبنی ہے اور انھیں توقع ہے کہ یہ مذاکرات نئے سال کے لیے ایک ’اچھا تحفہ‘ ثابت ہوں گے۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وِنگفیلڈ ہیز کے تجزیے کے مطابق صرف ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا جوہری جنگ کی دھمکیاں دے رہا تھا، اور منگل کی صبح پیونگ یانگ سے ایک وفد چہل قدمی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کھینچی ہوئی اس لکیر کی دوسری جانب پہنچ گیا جس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کیا ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے خیال میں کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اگرچہ ایک ڈرامائی تبدیلی ہیں، لیکن جنوبی کوریا میں کم ہی لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات شمالی کوریا کے رویے میں کسی بنیادی تبدیلی کی نشاندھی کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کو اس بات کا خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکہ ان کے ملک پر حملہ کر سکتا ہے اور انھیں احساس ہو گیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون جائئن کو بھی ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ اگر شمالی کوریا کو کسی قسم کے بامعنی مذاکرات پر رضامند کر بھی لیتے ہیں تو خدشہ یہ ہے کہ امریکہ شاید اپنے اتحادی کی اس کوشش کو بھی شک کی نظر دیکھ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں