سعودی عرب میں’ہم جنس شادی‘ کی ویڈیو، متعدد افراد گرفتار

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ copyrightTWITTER

سعودی عرب میں پولیس کے مطابق ہم جنس شادی سے متعلق سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دکھائی دیے جانے والے متعدد مردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

منظرِ عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دو مرد ایک ساتھ قالین پر چل رہے ہیں اور ان پر رنگین کاغذ کی لیریاں نچھاور کی جا رہی تھیں جبکہ ان میں سے ایک مرد نے بظاہر دلہن کی طرح حجاب پہن رکھا ہے۔

مکہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ویڈیو میں مخالف جنس کا لباس پہننے والے اور اس میں ملوث دیگر افراد کو شناخت کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو گرفتار کر کے کیس استغاثہ کو بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیے جانے والی افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی نوعیت بتائی ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں صنفی شناخت کے بارے میں کوئی واضح قانون نہیں ہے تاہم غیر ازدواجی جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی سمیت دیگر غیر اخلاقی رویوں پر جج اسلامی قانون کے اصولوں کے تحت فیصلہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں سائبر قانون کے تحت آن لائن مذہبی اقتدار کے خلاف، نجی زندگی میں مداخلت اور عوامی اخلاقیات سے متصادم سرگرمیوں کو جرم تصور کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں مزید پڑھیے

سعودی عرب: ’اشتعال انگیز‘ ویڈیو نشر کرنے کے الزام میں 22 گرفتار

اس سیلفی سے چند سعودیوں کو نفرت کیوں؟

ویڈیو میں مِنی سکرٹ پہنے دیکھی گئی سعودی خاتون رہا

’گرفتار مذہبی رہنما پر فرد جرم عائد نہیں کی جا رہی‘

مکہ پولیس کا کہنا ہے کہ’ ہم جنس پرست شادی‘ کا منظر جمعے کو مقدس شہر میں ایک فیسٹیول میں فلمایا گیا اور اس واقعے نے وہاں موجود لوگوں کو حیران کر دیا۔

اس سے پہلے فروری 2017 میں سعودی عرب کی پولیس نے 35 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا تھا جن میں خواجہ سرا بھی شامل تھیں۔ ان میں مینو باجی خواجہ سرا دوران حراست انتقال کر گئی تھیں اور ان کے خاندان نے تشدد کا الزام عائد کیا تھا جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ موت کا سبب تشدد نہیں بلکہ دل کا دورہ تھا۔

اسی بارے میں