حافظ سعید نے گلاسگو میں جہاد کی ترغیب دی تھی: بی بی سی تحقیق

حافظ سعید تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال حافظ سعید کو پاکستان میں کئی ماہ تک نظر بند رکھا گیا

بی بی سی کی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں دنیا کے مطلوب ترین افراد میں سے ایک نے 9/11 سے برسوں پہلے سکاٹ لینڈ کا دورہ کیا تھا اور مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی تھی۔

بی بی سی ریڈیو 4 کی دستاویزی فلم 'دی ڈان آف برٹش جہاد' میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے حافظ سعید نے سنہ 1995 میں ایک برطانوی مسجد کا دورہ کیا تھا۔

اسی سال اگست میں انھوں نے گلاسگو میں کہا تھا کہ ’جب مسلمانوں میں جہاد کا جذبہ تھا تو دنیا پر ان کی حکمرانی تھی لیکن آج وہ ذلیل کیے جا رہے ہیں۔‘

حافظ سعید سنہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے مطلوب ہیں جس میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ حافظ سعید کا بوجھ

٭ ’پاکستان پر سفارتی دباؤ میں یقیناً اضافہ ہوگا‘

حافظ سعید نے ہمیشہ ان حملوں سے تعلق سے انکار کیا ہے۔

بی بی سی کی دستاویزی فلم میں برطانیہ میں مسلمانوں کو ریڈیکلائز کرنے والے تصوارت کی جانچ کی گئی ہے جوکہ 9/11 سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے لاہور میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے کا انعقاد کیا تھا

اس پروگرام کے ایک پروڈیوسر ساجد اقبال نے بی بی سی سکاٹ لینڈ کو بتایا کہ انھوں نے ان لوگوں سے بات کی جو سنہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں سرگرم تھے۔ اس کے متعلق عام طور پر جو خیال کیا جاتا ہے 'وہ اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔'

انھوں نے کہا: 'وہ دور اور تھا، اس وقت جہاد کا میدان بوسنیا اور افغانستان تھا جہاں بعض قدر مشترک تھیں۔'

حافظ سعید کے سنہ 1995 کے برطانیہ کے دورے کی تفصیلات لشکر طیبہ کے ایک جریدے میں شائع کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ حافظ سعید نظر بند، جماعت الدعوۃ واچ لسٹ میں شامل

٭ ’حافظ سعید معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘

بی بی سی کی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ یہ مضامین اولڈھم مسجد کے امام نے اردو زبان میں لکھے تھے جو اس وقت دورے پر حافظ سعید کے ساتھ ساتھ تھے۔

ساجد اقبال نے کہا: 'اس وقت برطانوی مسلم کو جہاد میں شریک ہونے کے لیے مسلسل باتیں ہوتی تھیں۔'

گلاسگو کی مرکزی مسجد میں حافظ سعید نے ایک بڑے مجمعے سے خطاب کیا تھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلمانوں میں جہاد کے جذبے کو مارنے کے لیے صیہونی اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حافظ سیعد پر عدالت جاتے ہوئے پھول کی پتیاں پھینکی جا رہی تھیں جب عدالت نے انھیں نظر بندی سے رہائی کا فیصلہ سنایا تھا

انھوں نے کہا: 'وہ مسلمانوں کو جمہوری نظام کے ذریعے سیاسی اقتدار کا لالچ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

'وہ سود پر مبنی معیشت کا استعمال کرکے مسلمانوں کو مقروض رکھنا چاہتے ہیں۔'

ڈاکیومنٹری کے پروڈیوسر نے کہا کہ وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ’انھوں نے ایک دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والے معروف عسکریت پسند کے لیے کس طرح مسجد کا دروازہ کھول دیا۔ مسجد دیوبند مسلک کے زیر انتظام ہے جبکہ حافظ سعید اہل حدیث فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: 'اس وقت بھی وہ معروف عسکریت پسند تھے اور کشمیر میں سرگرم تھے۔' گلاسگو سینٹرل مسجد نے ان دعوؤں پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

اس دورے میں حافظ سعید نے برمنگھم میں بھی لوگوں سے خطاب کیا اور انھیں 'جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہونے' کی دعوت دی۔

لیسسٹر میں انھوں نے ایک مجمعے سے خطاب کیا جس میں تقریباً چار ہزار نوجوان شریک تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ان کی تقریر نے 'نوجوانوں میں نیا جوش بھر دیا۔' مضمون میں کہا گیا ہے 'سینکڑوں نوجوانوں نے جہاد کی تربیت لینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔'

مارچ سنہ 2001 میں برطانوی وزارت داخلہ نے لشکر طیبہ کو انتہا پسند گروہ قرار دیا۔ اسی سال ستمبر میں واشنگٹن اور نیو یارک پر القاعدہ نے حملہ کیا۔

سنہ 2008 میں لشکر طیبہ نے ممبئی شہر پر حملہ کر کے دنیائے جہاد میں اپنی شناخت بنائی۔

لشکر طیبہ کے بانی اور رہنما حافظ سعید جنھوں نے سنہ 1990 کی دہائی میں برطانیہ کی مساجد کا دورہ کیا وہ اب دنیا کے سب سے مطلوب انتہاپسندوں میں شامل ہیں۔

حالانکہ ان کے خلاف ممبئی حملے کے لیے کوئی مقدمہ نہیں چلا ہے اور ابھی حال ہی میں انھیں حکومت پاکستان نے نظر بندی سے رہا کر دیا ہے۔

اسی بارے میں