برسلز میں ریپ کا شکار افراد کے کپڑوں کی نمائش

کپڑے تصویر کے کاپی رائٹ copyrightCAW OOST BRABANT

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک نمائش کے دوران ریپ کے متاثرین کے کپڑے رکھے گئے ہیں تاکہ اس روایتی تاثر کو زائل کیا جا سکے جس میں جنسی جرائم کا ذمہ دار لباس کو قرار دیا جاتا ہے۔

یہ نمائش بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے مولنبیک نامی قصبے میں کی گئی جسے ’کیا یہ میرا قصور ہے؟‘ کا نام دیا گیا۔

فلینڈرز نیوز ویب سائٹ کے مطابق اس نمائش کو ان متعدد افراد کے نام منسوب کیا گیا جو وہ حملے کے بعد محسوس کرتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مصر میں وکیل کو خواتین کے ریپ پر اکسانے کے جرم میں سزا

چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا: یزیدی لڑکی کی کہانی

انڈیا: 17 سالہ لڑکی کا ریپ، چار افراد گرفتار

امدادی گروپ سی اے ڈبلیو ایسٹ برابینٹ نے اس نمائش کے منتظیمن کو ادھار کپڑے فراہم کیے جن میں ٹریک سوٹ باٹمز، پاجامے اور دیگر کپڑے شامل تھے۔

سی اے ڈبلیو کی لیسبھ کینیس نے وی آر ٹی ون ریڈیو کو بتایا ’آپ نے جو بات فوری طور پر نوٹس کی وہ یہ ہے کہ آپ کے ارد گرد چلتے وقت یہاں نہایت چھوٹے عام سے ٹکڑے ہیں جو کوئی بھی پہن سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس نمائش میں بچوں کی قمیض بھی موجود ہے جس پر ’مائے لٹل پونی‘ کی تصویر ہے جو ایک سخت حقیقت ہے۔

لیسبھ کینیس کا کہنا ہے کہ جنسی حملے کے مقدمات میں ’متاثرہ شخص کا الزام‘ ابھی تک ایک مسئلہ ہے جہاں متاثرہ شخص سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے خلاف جنسی حملے کے کم سے کم ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے وی آر ٹی ویب سائٹ کو بتایا کہ سنہ 2015 میں ملک میں ہونے ریپ کے واقعات میں سے صرف دس فیصد پولیس کو رپورٹ کیا گیا۔

اسی بارے میں