’ڈیانا اور ڈوڈی کا مجسمہ ہیرڈز سے ہٹایا جائے گا‘

ڈیانا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'انسوسینٹ وکٹمز' نامی اس مجسمے کی نقاب کشائی سنہ 2005 میں کی گئی تھی

لندن کے مشہور لگژری ڈیپارٹمنٹ سٹور ہیرڈز سے شہزادی ڈیانا اور ڈوڈی الفائد کا ایک کانسی کا مجسمہ ہٹا لیا جائے گا۔

ان مجسمے کو مغربی لندن میں واقع اس سٹور کے سابق مالک اور ڈوڈی کے والد محمد الفائد کو لوٹایا جائے گا جنھوں نے سنہ 1997 میں ان دونوں کی ہلاکت کے بعد ان کی یاد میں یہ بنوایا تھا۔

کینسنگٹن پیلس کی جانب سے نئی یادگار کے اعلان کے بعد ہیرڈز کا کہنا ہے کہ یہ مجمسمہ واپس کرنے کا صحیح وقت ہے۔

محمد الفائد نے سنہ 2010 میں ہیرڈز سٹور کو قطری شاہی خاندان کو ڈیڑھ ارب پاونڈ میں فروخت کر دیا تھا۔

’انسوسینٹ وکٹمز‘ نامی اس مجسمے کی نقاب کشائی سنہ 2005 میں کی گئی تھی۔

ہیرڈز کے مینیجنگ ڈائریکٹر مائیکل وارڈ کا کہنا ہے انھیں فخر ہے کہ انھوں نے گذشتہ 20 برسوں میں دنیا بھر سے اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کا استقبال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ یادگار الفائد کو لوٹانے اور محل میں خراج عقیدت کے لیے عوام کو مدعو کرنے کا صحیح وقت ہے۔‘

شہزادی ڈیانا کے بارے میں مزید پڑھیں!

شہزادی ڈیانا کی زندگی پر ایک نظر

’مجھ سے ڈیانا کے جنازے کے بارے میں جھوٹ بولا گیا‘

’دنیا کی سب سے شرارتی ماؤں میں سے ایک‘

’ڈیانا کی نجی ویڈیوز نشر نہ کی جائیں‘

گذشتہ سال ڈیوک آگ کیمبرج اور پرنس ہیری نے کینسنگٹن پیلیس کے عوامی میدان پر اپنی والدہ کی یاد میں ایک نیا مجسمہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پرنسس آف ویلز ڈیانا کی ہلاکت 31 اگست 1997 کو اپنے ایک قریبی دوست ڈوڈی الفائد کے ہمراہ پیرس میں ایک کار حادثے میں ہوئی تھی۔

محمد الفائد کا موقف تھا کہ یہ ہلاکتیں کوئی حادثہ نہیں تھیں تاہم سرکاری تحقیقات میں اس ایسا کچھ ثابت نہیں ہوسکا۔

سنہ 2000 میں محمد الفائد نے ہیرڈز اور شاہی خاندان کے درمیان کاروباری روابط منطقع کر دیے تھے جب انھوں نے شاہی وارنٹس ختم کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرنسس آف ویلز ڈیانا کی ہلاکت 31 اگست 1997 کو اپنے ایک قریبی دوست ڈوڈی الفائد کے ہمراہ پیرس میں ایک کار حادثے میں ہوئی تھی

ٹائمز اخبار کو دیے گئے ایک بیان میں محمد الفائد کے خاندان نے اس یادگار کو اب تک ’محفوط‘ رکھنے پر قطر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’اس کے باعث لاکھوں افراد نے ان دو شاندار افراد کو یاد رکھا اور خراج عقیدت پیش کر سکے۔‘

’اب اس کو گھر لانے کا وقت ہے۔‘

سنہ 2011 میں الفائد جب فلہم فٹبال کلب کے مالک تھے تو انھوں نے مائیکل جیکسن کا ایک مجمسمہ لگایا تھا۔

کئی سال بعد ان کا دعویٰ تھا کہ کلب کی تنزلی اس لیے کی گئی کیونکہ نئے مالک نے یہ مجسمہ ہٹا دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں