دمشق: باغیوں کے علاقے میں ’کلورین گیس کا حملہ‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے لے کر اب تک کئی بار کلورین گیس حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیرانتظام محصور علاقے میں ایک کلورین گیس کا حملہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو مشرقی غوطہ کے علاقے میں ایک میزائل حملے کے بعد گیس کی بو کی اطلاع ملی ہیں، اس علاقے میں روزانہ بمباری بھی ہوتی ہے۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ چھ افراد کو سانس کی معمولی تکلیف کا علاج معالجہ کیا گیا ہے۔

تقریباً چار لاکھ مقامی افراد کا روس کی حمایت یافتہ حکومتی فوجوں نے سنہ 2013 سے محاصرہ کیا ہوا ہے۔

شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے لے کر اب تک کئی بار کلورین گیس حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ہمیشہ کیمیکل مواد کے استعمال کی تردید کی گئی ہے۔

دس جنوری کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر سے مشرقی غوطہ میں فضائی اور زمینی کارروائی میں اضافے سے 85 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ مشرقی غوطہ کا علاقہ سٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے کیونکہ باغی یہاں سے دمشق کے رہائشی علاقوں پر راکٹ فائر کرتے ہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وجہ سے شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔

یوسف ابراہیم ایک استاد ہیں اور وہ باغیوں کے زیرانتظام علاقے حرستا میں زیرزمین رہ رہے ہیں، جو مشرقی غوطہ کے قریب واقع ہے، وہ صورتحال کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’آج کل کی نسبت زیادہ مشکل نہیں ہے کیونکہ جنگی طیارے یا حملے اب تک نہیں ہوئے، صرف بھاری گولہ باری، جیسے زمین سے زمین تک مار کرنے والے راکٹ، جو حرستا میں عمارتوں اور آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

’شہر کے تمام باسی زیرزمین ہیں، یا ایسی بھاری گولہ باری کی وجہ سے تہہ خانوں میں رہ رہے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ باغیوں کے زیرانتظام شامی علاقوں میں براہ راست فضائی حملے یا گولہ باری کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں