انڈیا اسرائیل تعلقات:’رومانس بھی ماند پڑ گیا ہے'

ڈرونز
Image caption اسرائیل کی ایک فیکٹری میں ڈرونز بنائے جا رہے ہیں

اسرائیلی ایرو سپیس انڈسٹریز کی ایک فیکٹری میں چاروں جانب ڈرونز رکھے ہیں۔ کچھ نصف تیار ہیں اور کچھ پورے تیار ہیں۔

انڈیا کی مسلح افواج سالوں سے ان ڈرونز کا استعمال کر رہی ہیں۔

یرو شلم سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر تل ابیب میں یہ اس ملک میں دفاعی سامان بنانے والی سب سے بڑی فیکٹری ہے۔

کمپنی کے قریب سکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پرندہ بھی وہاں پر نہ مار سکے لیکن بی بی سی ہندی کے نمائندے کو وہاں جانے کی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔

ہم اور ہمارے سامان کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی گئی اور پھر ہمیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا کا یروشلم کارڈ

٭ انڈیا اسرائیل کے قریب تر آرہا ہے

انڈیا کی فوج ہیرون یو اے وی نظام یعنی ڈرون کا جاسوسی کے لیے بہ خوبی استعمال کرتی ہے۔

ان کا استعمال میزائل داغنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ فیکٹری میں ہیرون ڈرون بھی رکھے تھے۔

کمپنی کے ایک سینیئر ایگزیکٹو کے یواش روبن کہتے ہیں: انڈیا ان کی کمپنی کا سب سے بڑا خریدار ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'انڈیا ہمارا گاہک نہیں بلکہ ہمارا پارٹنر ہے۔ ہمارے رشتے 25 سال پرانے ہیں۔'

انڈیا میں نتن یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم اتوار کے روز چار روزہ دورے پر ہندوستان پہنچے

دفاعی شعبے میں انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ گذشتہ 25 سالوں میں 10 ارب ڈالر کا سودا ہو چکا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اتوار کو انڈیا کے چار روزہ دورے پر دہلی پہنچے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا چیلنج انڈیا سے اسرائیل کے رشتے کو مزید مستحکم کرنا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا اسرائیل سے میزائل خریدے گا

٭ یروشلم پر انڈیا نے اسرائیل کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

دفاع ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اسے مستحکم کرنے کی مزید گنجائش ہے۔

رشتے میں نشیب و فراز

Image caption بی بی سی نامہ نگار زبیر احمد کمپنی کے ایک اعلی افسر یوآش روبن کے ساتھ

حال ہی میں انڈیا کی جانب سے اسرائیل جو جھٹکے ملے ہیں ان کے سبب تعلقات کی گرمجوشی میں کمی آئی ہے۔ انڈیا نے اقوام متحدہ میں یروشلم کے معاملے پر فلسطین کے حق میں ووٹ دے کر پہلا دھچکہ دیا تھا۔

دوسرا دھچکہ اس وقت لگا جب انڈیا نے اچانک اسرائیل کے ساتھ نصف ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کو منسوخ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ مودی کا اسرائیل کا دورہ 'تاریخی' کیوں ہے؟

٭ ’مودی اور اسرائیل کی ایک جیسی سوچ‘

ابھی اسرائیل ان سے باہر نہیں آيا ہے۔ ایسے میں مقامی میڈیا میں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر نتن یاہو انڈیا کیوں جا رہے ہیں۔

بعضوں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا رشتہ نہیں بلکہ رومانس ہے۔

'رومانس ماند پڑا'

Image caption انڈیا اسرائیل سے دفاعی سازوسامان خریدنے والا سب سے اہم ملک ہے

انڈیا اسرائیل کے ثقافتی تعلقات پر گہری نظر رکھنے والی شلوا وائل کہتی ہیں کہ اب رومانس بھی ماند پڑ گیا ہے۔'

وہ کہتی ہیں: نتن یاہو کو دونوں ممالک کے درمیان ماند پڑتے رومانس کو بحال کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان سنہ 2010 میں جتنی تجارت تھی آج اتنی بھی نہیں ہے۔ یہ بزنس پانچ ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس کے زیادہ امکانات ہیں۔

اسرائیل انڈیا چیمبرس آف کامرس کی سربراہ انت برنسٹائن کہتی ہیں کہ دونوں ممالک کے تاجروں میں بہت فاصلے ہیں۔

کاروباری مشکلات

Image caption ہیرون کمپنی کا کہنا ہے کہ انڈیا اس کا صرف گاہک نہیں بلکہ پارٹنر ہے

انت برنسٹائن کے مطابق: 'اسرائیلی تاجر امریکیوں کے ساتھ کام کرنے کے عادی ہیں، انھیں جلدی رہتی ہے، انڈیا کا ماحول مختلف ہے، انھیں وہاں کام کے ماحول کو سمجھنا ہوگا۔

وہ کہتی ہیں کہ سنہ 2018 میں اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت بہت تیزی سے فروغ ہوگا۔

اسرائیل 'جدید ترین ٹیکنالوجی' میں انڈیا کی مدد کرسکتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون کرسکتا ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس شعبے کے تاجروں کو انڈین بازار کی سمجھ پیدا کرنی ہوگی جہاں مال عمدہ اور قیمت کم ہو۔ اسرائیلی تاجر اب یہ سمجھنے لگے ہیں۔

80 لاکھ کی آبادی

بعض ماہرین سے بات کرتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ 80 لاکھ کی آبادی والے ملک کے لیے ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک کے ساتھ تجارت کرنا اپنی صلاحیتوں سے زیادہ کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

وزیر اعظم نتن یاہو کا سب سے بڑا چیلنج انڈیا کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات میں گہرائی پیدا کرنا ہوگا۔

کسی نے یہاں کہا کہ 'اسرائیل اور ہندوستان کو اپنے تعلقات کو رومانس سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔'

اسی بارے میں