شام کی جنگ: سرحد پر ’دہشت گرد فوج‘ کے امریکی منصوبے پر ترکی کی تنقید

File photo shows members of the Syrian Democratic Forces (SDF) in vehicle north of Raqqa (8 February 2017) تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرحدی سکیورٹی فورسز کی نصف تعداد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز پر مشتمل ہو گی

شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران اہم کردار ادا کرنے والے ممالک نے کرد اتحادی ملیشا پر مشتمل 'سرحدی سکیورٹی فورس' تشکیل دینے کے امریکی منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔

ترکی کے صدر اسے دہشت فورس قرار دیتے ہوئے سیریئن ڈیموکریٹک فورس کی تربیت شروع ہونے سے پہلے ہی 'اس کا گلا گھوٹنے' پر زور دیا۔

دوسری جانب شام کی حکومت کا اس منصوبے کو اپنی سالمیت پر 'حملہ' قرار دیا ہے جبکہ روس نے خبردار کیا ہے کہ اس سے اتحاد ختم ہو سکتا ہے۔

ترکی کردوں کے ساتھ امریکی اتحاد قبول نہیں کرے گا: اردوغان

شام میں دولت اسلامیہ کے ’دارالخلافہ‘رقہ میں آپریشن کا اعلان

جنگجوؤں کا دولت اسلامیہ کے ’دارالخلافے‘ پر حملہ

سیریئن ڈیموکریٹک فورس نے امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں کی مدد سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیر کنٹرول رقبہ خالی کروایا ہے۔

رواں سال اکتوبر میں اس اتحاد نے شام کے شمالی شہر رقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے رقہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا۔

ایس ڈی ایف پیش قدمی کرتے ہوئے جنوب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے۔

امریکہ سرحدی افواج کیوں بنا رہا ہے؟

اتحادی افواج کی جانب سے ایس ڈی ایف کے ساتھ نئی سرحدی سکیورٹی فورس کو تربیت دینے کے منصوبے کی خبریں گذشتہ ہفتے 'دی ڈیفنس پوسٹ' میں شائع ہوئیں، جس میں ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 230 افراد نے 'ابتدائی کلاس' میں شرکت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال اکتوبر میں اس اتحاد نے شام کے شمالی شہر رقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا

اتحادی افواج نے مزید کہا ہے کہ اُن کا ہدف ہے کہ وہ ’آئندہ چند برسوں میں‘ 30 ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج تشکیل دیں۔ جن میں نصف کرد اور عرب فوجی ہوں جبکہ باقی نصف فوج میں نئے لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔'

سرحدی سکیورٹی فورسز کا مقصد شام کے ترکی کے ساتھ شمالی سرحد اورمشرق میں عراقی سرحد کو کنٹرول کرنا ہے۔

بیان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بجائے مختلف نام لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'طاقتور باڈر سکیورٹی فورسز داعش کی آزادنہ نقل و حرکت اور غیر قانونی اشیا کے نقل و حمل کو روکیں گی۔'

ترکی کے خدشات کیا ہیں؟

ترکی نے کئی بار اتحادی افوج کی جانب سے سیریئن ڈیموکریٹک فورس کی مدد کی مخالفت کی ہے کیونکہ ایس ڈی ایف کی اکثریت کرد ملیشا وائی پی جی کے جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔

ترکی کرد ملیشا وائی پی جی کو کالعدم جماعت کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ سمجھتا ہے، جو گذشتہ تین دہائیوں سے ترکی میں کرد علاقوں کی خودمختاری کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔

البتہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ کرد ملیشا وائی پی جی دولت اسلامیہ سے لڑائی کے لیے بہت اہم ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ امریکہ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 'یہ ہماری سرحد پر ایک فوج تشکیل دینے جیسا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے ہے کہ ہم اس دہشت فوج کو بننے سے پہلے ہی اس کا گلہ گھونٹ دیں۔'

صدر اردگان نے کہا کہ ترکی کی افواج کی جانب سے شمالی مغربی شام کے کرد علاقوں میں آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ 'کسی بھی لمحے' شروع ہو سکتی ہیں۔

دوسرے ممالک کا ردعمل

شام میں حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی افواج کی تشکیل اُن کی ' سالمیت، علاقائی خودمختاری اور اتحاد پر حملہ ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔'

شام کی حکومت کے حمایت کرنے والے ملک روس کا کہنا ہے کہ 'امریکہ کے اس اقدام سے ممکنہ طور پر ترکی اور عراق کے ساتھ طویل سرحدی علاقے میں توڑ پھوڑ شروع ہو سکتی ہے۔'

اسی بارے میں