ڈرون نے ڈوبتے لڑکوں کو کیسے بچایا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وہ لمحہ جب ایک ڈرون نے دو نوجوانوں کو ڈوبنے سے بچایا۔

خاص طور پر زندگی بچانے کے لیے بنائے گئے ایک نئے ڈرون کی مدد سے آسٹریلیا میں دو نوجوانوں کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔

یہ ڈرون فی الحال لائف گارڈز تربیتی بنیادوں پر استعمال کر رہے تھے۔

15-17 برس کے لڑکے آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے ساحلی علاقے لینوکس ہیڈ میں سرفِنگ کر رہے تھے جب ساحل پر موجود ایک شخص نے دیکھا کہ وہ مشکل میں ہیں۔ جان بچانے والے عملے نے فوراً ڈرون بھیجا جس نے سمندر میں ’ریسکیو پوڈ‘ گرایا اور دونوں لڑکے اس کے ذریعے با حفاظت ساحل تک پہنچ گئے۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ جان باریلارو نے اس کوشش کو سراہا اور کہا ' ایک ڈرون جس میں فلوٹیشن ڈیوائس لگی ہو اُسے اب سے پہلے تیراکوں کو بچانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔'

جب ہنگامی طور پر مدد مانگی گئی اس وقت جان بچانے والے عملے کے نگراں جے شیراڈن ڈرون اُڑا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرانس میں ساحل سمندر پر استعمال ہونے والا ڈرون جو تیراکوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اُن کے مطابق یہ ایک ناقابل یقین تجربہ تھا۔ انہوں نے مقامی اخبار دی سنڈے مارننگ ہیرلڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'دی لیٹل رپر یو اے وی نے اپنے آپ کو ثابت کر دیا۔ یہ جان بچانے کے لیے انتہائی مؤثر اور مفید ہے اور اسے اُڑانے کا اپنا ہی لطف ہے۔'

مسٹر شیریڈن نے بتایا کہ ڈرون کو لانچ کرنے، جائے حادثہ تک پہنچنے اور ریسکیو پوڈ گرانے میں صرف ایک یا دو منٹ لگے۔ عام حالات میں ایسا کرنے میں اس سے تین گنا زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ڈرون کے کیمرے نے اس پورے ریسکیو مشن کو فلمبند بھی کیا۔

ریاست نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 340000 امریکی ڈالرز خرچ کر کے متعدد ڈرون خریدے رہے ہیں۔

کچھ کا مقصد شارک مچھلیوں کی نشاندہی کرنا ہے جبکہ دیگر میں فلوٹیشن پوڈ، الارم اور لاؤڈسپیکرز نصب ہیں۔

متعلقہ عنوانات