صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت: بینن کو ’گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دینے کا حکم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سابق چیف سٹریٹیجسٹ سیٹو بینن کو طلب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ وہ گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دیں۔

اطلاعات ہیں کہ انھیں 2016 کی انتخابی مہم میں روس کی مبینہ مداخلت کے بارے تحقیقات کرنے والے ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر روبرٹ میولر نے طلب کیا تھا۔

اس سے پہلے سٹیو بینن منگل کو کانگریس کی کیمٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے۔

امریکی صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کے بارے میں کانگریس کی کمیٹی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ: نئی کتاب میں 11 چونکا دینے والے انکشافات

’غداری‘ کے بیان پر ٹرمپ برہم، ’بینن کا دماغ خراب ہے‘

ٹرمپ نے سٹیو بینن کو قومی سلامتی کونسل سے ہٹا دیا

امریکہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے دو اہم عہدوں پر تقرریاں

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس بارے میں معلومات رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ مسٹر بینن کو گذشتہ ہفتے طلب کیا گیا تھا۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بینن کو طلب کرنا، میولر کا مذاکراتی حربہ ہو سکتا ہے تاکہ وہ غیر رسمی ماحول میں بینن کو تفتیش کے دوران جواب دینے کے لیے رضا مند کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میولر کس معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے؟

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کی ممکنہ مداخلت کی تحقیقات کے لیے امریکہ کے محکمۂ انصاف نے رواں سال مئی میں روبررٹ میولر کو تعینات کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور حلف برداری سے پہلے کے عبوری دور کی ٹیموں پر الزام ہے کہ صدارتی انتخاب میں ریپبلکن امیدوار کی کا میابی کے لیے اُن کے روسی ایجنٹوں سے رابطے تھے۔

سی آئی اے اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ انتخاب میں صدر ٹرمپ کی کامیابی میں روس کا ہاتھ ہے۔

سیٹو بینن کون ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی 'امریکہ فرسٹ' الیکشن مہم کو سیٹو بینن نے تشکیل دیا تھا اور اُن کا شمار ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا لیکن رواں سال اگست میں انھیں معطل کر دیا گیا۔

حال ہی صدر ٹرمپ اور اُن کے خاندان پر لکھی گئی کتاب میں انھوں نے ٹرمپ پر کھلے عام تنقید کی ہے۔

کتاب میں اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کہ جون 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور روسیوں کے درمیان ملاقات ’غداری‘ کے زمرے میں آتی ہے۔

یہ ملاقات نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں ہوئی اور اس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور صدارتی مہم کے چیئرمین بھی موجود تھے۔

روس کے ایجنٹوں نے ٹرمپ جونیئر سے رابطہ کیا اور اُنھیں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف مواد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

یاد رہے کہ بعد میں ٹرمپ جونیئر نے اس ملاقات کی تصدیق کی تھی۔ روبرٹ میولرکی جانب سے ہونے والی اس انکوائری میں اب تک چار افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

کانگریس بھی صدارتی انتخاب میں روس کی مداخلت کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اسی بارے میں