امریکہ نے فلسطین کے لیے ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روک دی

Palestinian refugees wait to receive aid at a United Nations food distribution centre in Al-Shati refugee camp in Gaza City January 15, 2018 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ نے فلسطین میں فلاحی منصوبوں کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے دی جانے والی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینا تھی لیکن اب امریکہ صرف چھ کروڑ ڈالر دے گا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن کی اقدامات کو رد کرنے پر امریکہ امداد میں کمی کر سکتا ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کا منصوبہ ایک طمانچہ ہے: محمود عباس

ٹرمپ کا حل:'فلسطینی ریاست ڈمپ'؟

مسئلہ فلسطین پر صدر ٹرمپ اور محمود عباس کی ملاقات

اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کے مجموعی فنڈ میں سے 30 فیصد امریکہ امداد پر مشتمل ہے۔

گذشتہ سال امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 37 کروڑ ڈالر دے تھے۔

اس سے پہلے فلسطین کے صدر محمود عباس نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے امن منصوبے پر شدید تنقید کی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے بعد سے وہ امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔

فلسطینی صدر نے اسرائیل پر اوسلو معاہدے کو ختم کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے تحت قیامِ امن کے لیے بات چیت شروع ہوئی تھی۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ اس کٹوتی کا مقصد 'سزا' دینا نہیں ہے بلکہ امریکہ فلاحی ایجنسی میں اصلاحات چاہتا ہے۔

امریکی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رویئٹرز کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'مزید بات چیت تک ساڑھے چھ کروڑ ڈالر روک لیے گئے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ 'اب وقت ہے کہ دوسرے ممالک، جو کافی امیر بھی ہیں سامنے آئیں اور علاقائی سلامتی میں اپنا حصہ ڈالیں۔'

امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ 'امریکہ کو امداد کے بدلے، تعریف یا احترام نہیں ملتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ فلسطین کو کتنی امداد دیتا ہے؟

امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو گذشتہ برس 37 کروڑ ڈالر دیے تھے جبکہ یورپی یونین نے امریکہ امداد کے مقابلے میں نصف رقم دی تھی۔

’مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کا قوی امکان ہے‘

اقوامتحدہ کی ایجنسی برائے ریلیف اینڈ ورک فلسطین میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر رقم خرچ کرتی ہے۔

یو ایس ایڈ کے ذریعے امریکہ نے فلسطین کو 26 کروڑ ڈالر دیے۔

دوسری جانب امریکہ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ رقم عسکری امداد کی مد میں دیتا ہے۔

اسی بارے میں