ترکی کی شام میں امریکی حمایت یافتہ کردوں کے خلاف کارروائی

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے اس سے پہلے کردوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی بھی دی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

شام کی جنگ: سرحد پر 'دہشت گرد فوج' کے امریکی منصوبے پر ترکی کی تنقید

ترکی کردوں کے ساتھ امریکی اتحاد قبول نہیں کرے گا: اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر کرد افواج کی شام میں موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے اسے علیحدگی پسند کرد تنظیم 'پی کے کے‘ کا لازمی جز قرار دیا۔

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق شام کے علاقے عفرین پر صوبے ہیٹے سے بمباری کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسری جانب روس کے وزیرِ خارجہ نے علاقے سے روسی فوجیوں کو نکالنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا خاتمہ کرے گا جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

ادھر شام نے ترکی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی پر ترکی کے طیاروں کو مار گرانے کی دھمکی دی ہے۔

ترکی کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے خلاف بمباری عفرین پر چڑھائی کرنے کے منصوبہ کا آغاز ہے۔

ادھر وائی پی جی کا کہنا ہے کہ عفرین میں رات بھر میں 70 گولے داغے گئے۔

عفرین میں سیئرین ڈیموکریٹک کونسل کے رہنما نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ عفرین پر کی جانے والی گولہ باری کے بعد شہری محفوظ پناہ تلاش کرتے رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب عفرین پر گولہ باری جاری تھی تو اس وقت عام شہری، خواتین اور بچے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے یہاں تک کہ وہ گولہ باری ختم ہونے تک محفوظ پناہ گاہوں کو تلاش کرتے رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں