ترکی کی امریکہ کو تنبیہ،’شام میں کرد ملیشیا کی پشت پناہی بند کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ترکی کی فوجی کارروائی کے بارے میں بات تو کی لیکن مذمت نہیں

ترکی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں کرد ملیشیا وائی پی جی کی پشت پناہی بند کرے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترک فوج کو عفرین کے علاقے سے نکالنے کے لیے کرد جنگجو امریکہ کے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ان کا ملک ترکی کے ساتھ مل کر شمالی شام کے حوالے سے اس کے سکیورٹی خدشات پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ ترکی کے دہشت گردوں سے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے اور اس نے صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔

ترکی اس ملیشیا کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور اسے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کی ہی شاخ قرار دیتا ہے جو آزاد کردستان کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم وائی پی جی تنظیم سے کسی قسم کے تعلق سے انکاری ہے۔

اسی بارے میں پڑھیے

ترکی کی امریکی حمایت یافتہ کردوں کے خلاف کارروائی

ترکی کردوں کے ساتھ امریکی اتحاد قبول نہیں کرے گا: اردوغان

کرد آزادی چھوڑ دیں یا پھر بھوکے رہیں: اردوغان

کرد ملیشیا شمال مشرقی شام کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی اہم اتحادی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کا الزام ہے کہ کرد جنگجو امریکہ کے فراہم کردہ ہتھیار استمعال کر رہے ہیں

انقرہ کا موقف ہے کہ چونکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ ختم ہو چکی ہے اس لیے یہ اتحاد ختم ہونا چاہیے۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالن کا کہنا تھا ’ہم اپنی سرحدوں کے ساتھ شام میں ’پی کے کے‘ کی اسٹیبلشمنٹ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

عفرین میں ترک فوج کی کارروائی کے بعد لاکھوں شہری وہاں سے فرار ہو رہے ہیں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والی اس کارروائی کے بعد سے 70 سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ایک خصوصی اجلاس میں ترکی کی شام میں کارروائی کے بارے میں بات تو کی لیکن اس کی مذمت نہیں کی گئی۔

پیر کو ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا تھا کہ ترکی کی زمینی افواج شام کے شمالی حصے میں داخل ہو گئی ہیں جس کا مقصد سرحدی علاقے سے کرد جنگجوؤں کا انخلا ہے۔

ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بن علی یلدرم نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد شام کے اندر 30 کلومیٹر گہرا 'محفوظ زون' قائم کرنا ہے۔

ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔

اسی بارے میں