بوٹوکس کروانے پر اونٹ سعودی مقابلہ حسن سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب تک تو ہم خواتین کے مقابلۂ حسن میں جیتنے والوں سے تاج واپس لینے کی خبریں پڑھتے رہے ہیں لیکن اب سعودی عرب میں اونٹوں کے مقابلۂ حسن میں بارہ قیمتی اونٹوں کو مقابلے سے اس وجہ سے باہر کر دیا گیا کیونکہ ان کے مالکان نے خوبصورتی بڑھانے کے لیے 'بوٹوکس' کا استعمال کیا تھا۔

سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز کیمل فسٹیول میں ہزاروں اونٹوں کو پیش کیا جاتا ہے جہاں اُن کے ہونٹوں اور کوہان کی خوبصورتی اور بناوٹ پر انعام دیا جاتا ہے۔

اس فیسٹیول میں اونٹوں کی دوڑ اور اونٹوں کے دودھ کے بھی مقابلے ہوتے ہیں اور اس کی مجموعی انعامی رقم پانچ کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔

مزید پڑھیے

* وہ ملکہ حسن جن کے تاج چھن گئے

* بکریوں کے مقابلہ حسن کا انعقاد

اس بار ہونے والے مقابلے میں ججوں کو یہ معلوم ہوا کہ چند مالکان نے دھوکہ بازی کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے اخبار دی نیشنل کے مطابق امارات سے تعلق رکھنے والے علی ال مزروعی نے بتایا کہ اونٹوں پر بوٹوکس کا استعمال ان کے ہونٹ، ناک اور جبڑے خوبصورت بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی حکام اس فسٹیول کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں

'اس کا استعمال کرنے سے سر بڑا ہو جاتا ہے اور جب اونٹ باہر آتا ہے تو لوگ کہتے ہے کہ دیکھو اس کا سر کتنا بڑا ہے، اس کے ہونٹ بڑے ہیں اور اس کی ناک بھی بڑی ہے۔'

فیسٹیول کے آغاز سے قبل سعودی میڈیا میں خبر آئی کہ ایک جانوروں کے ڈاکٹر کو اونٹوں کی پلاسٹک سرجری کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہے جو ان کو بوٹوکس انجیکشن لگا رہا تھا اور ان کے کانوں کو چھوٹا کر رہا تھا۔

سعودی حکام اس فیسٹیول کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مقابلے کے مرکزی جج فوزان المہدی نے کہا کہ اونٹ 'سعودی عرب کا نشان ہے۔'

اونٹوں کا مقابلہ حسن سب سے پہلے سال 2000 میں منعقد ہوا تھا اور گذشتہ سال اسے منعقد کرنے کے لیے ملک کے دارالحکومت ریاض سے باہر صحرا میں مستقل مقام فراہم کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں