’شام میں امریکی فوج رکھنا تباہ کن غلطی ہے‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کیا گیا امریکہ کا غیر معینہ مدت تک شام میں فوج رکھنے کا فیصلہ ایک تباہ کن غلطی ہے۔

شامی نائب وزیرِ خارجہ فیصل المقداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی امریکی پالیسی ایک معاندانہ فعل ہے۔ اس وقت شام میں تقریباً دو ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

امریکہ کا موقف ہے کہ یہ فوج نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کی باقیات سے لڑنے کے لیے شام میں رکھی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکی فوج شام میں موجود رہے گی۔

مزید پڑھیے

امریکہ شام میں کرد ملیشیا کی پشت پناہی بند کرے: ترکی

امریکہ کی سکیورٹی پالیسی کا محور ’اب دہشت گردی نہیں‘

شام: سرحد پر ’دہشت گرد فوج‘ کے امریکی منصوبے پر ترکی کی تنقید

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام سے امریکہ کے نکلنے کی صورت میں ایران میں موقع ملے گا کہ وہ شام میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکے۔

'ایران کی پراکسی وارز اور عوامی بیانات دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں غلبہ اور ہمارے اتحادی اسرائیل کی تباہی چاہتا ہے۔'

امریکی وزیر خارجہ نے اس کے ساتھ واضح کیا کہ امریکہ عراق سے نکلنے کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائے گا۔

فیصل المقداد کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی صدارتی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ آج آسٹریا کہ شہر ویانا میں اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی شام پر مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی مندوب ستیفان دی مستورا کا کہنا تھا کہ حکومتی اور باغی فورسز کے نمائندوں کے درمیان یہ دو روزہ مذاکرات انتہائی اہم موڑ پر ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے وہ انتہائی پرامید ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مذاکرات کا محور نیا آئین تیار کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ ماضی میں حکومتی اور باغی فورسز کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام رہے ہیں۔

ادھر روس کی حمایت یافتہ بشار الاسد کی حکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے چند روز بعد ہی روسی شہر سوچی میں مذاکرات کا انعقاد کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں