روس نے مدد کی یا نہیں، ٹرمپ حلفیہ بیان دینے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار کہا ہے کہ انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں وہ حلف اٹھا کر سوالات کے جوابات دینے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان کے وکلا کی صلاح کے بعد وہ ’اس کے منتظر ہیں۔‘

تحقیقات کرنے والے اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم میں روس کی ساز باز شامل تھی تاکہ انتخابات پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ اس الزام کی ٹرمپ اور روس دونوں تردید کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’غداری‘ کے بیان پر ٹرمپ برہم، ’بینن کا دماغ خراب ہے‘

’امریکی میڈیا اپنا منہ بند رکھے اور سنے بھی‘

امریکہ: سیٹو بینن کو ’گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کا حکم‘

اس کے علاوہ تحقیقات کرنے والے اہلکار اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ نے تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں تو نہیں ڈالیں۔

امریکی انٹیلیجنس پہلے ہی تعین کر چکی ہے کہ ماسکو نے کوشش ہے کہ صدارتی انتخابات ٹرمپ کے حق میں ہوں۔

امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ انٹرویو بعیداز قیاس ہے کیونکہ کوئی خفیہ سازش نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے روسی مداخلت کے حوالے سے تحقیقات کو ’وچ ہنٹ‘ کہا اور ’فریب‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خصوصی کونسل رابرٹ ملر سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر ہیں

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تذکرہ کیا کہ وہ اعلیٰ تحقیقات کار کی جانب سے حلفاً سوال و جواب کے لیے ’پوری طرح‘ تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ بھی ہو، سازش نہیں ہوئی اور جو کچھ بھی ہے کوئی رکاؤٹ نہیں ہے۔‘

جعمرات کو صدر ٹرمپ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورچ پہچنے ہیں۔

خیال رہے کہ 18 برسوں میں صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہوں گے جو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

اس سے پہلے صدر بل کلنٹن تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

امریکی صدر کے وکلا وزارتِ انصاف کی خصوصی کونسل رابرٹ ملر کی قیادت میں قائم تحقیقاتی ٹیم سے ایک انٹرویو کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملک کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے وہ ٹرمپ کابینہ کے پہلے رکن ہوں گے جن سے تحقیقات کی گئیں

وہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں صدر ٹرمپ سے سوال و جواب آیا آمنے سامنے ہوں گے، تحریری شکل میں ہوں گے یا دونوں صورتوں میں ہو سکتے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کب ہونا ہے اس بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’گذشتہ روز وہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کا کہہ رہے تھے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں لگتا ہے کہ رابرٹ مولر منصفانہ طور پر پیش آئیں گے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ تو ہمیں آگے چل کر معلوم ہوگا، مجھے امید ہے۔‘

اس سے قبل گذشتہ ہفتے رابرٹ مولر کی تحقیقاتی ٹیم نے امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے کئی گھنٹوں تک بات کی۔

ملک کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے وہ ٹرمپ کابینہ کے پہلے رکن ہوں گے جن سے تحقیقات کی گئیں۔

اسی بارے میں