تھائی لینڈ کےخفیہ سکول پاکستانی مسیحیوں کے لیےامید کی کرن

PAKISTAN refugee school thailand تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI
Image caption پاکستانی شہری جیکب لائنز آف جوڈا نامی تعلیمی مرکز بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں

تھائی لینڈ میں پھنسے ہوئے پاکستانی مسیحی جو کئی برسوں سے پناہ گزین کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کے لیے’خِفیہ‘ سکول امید کی کرن ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستانی مسیحوں کی ایک تعداد پاکستان میں مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے فرار ہوئے ہیں۔

سنی ( یہ ان کا اصل نام نہیں) کی عمر15 سال ہے وہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب وہ پاکستان میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ کرکٹ پاکستان میں ایک انتہائی مقبول کھیل ہے۔ سنی اور ان کے دوست اب ہر روز سکول کے بعد کرکٹ کھیلتے ہیں۔

سنی اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ہمراہ ہمراہ تھائی لینڈ آئے وہ چار برسوں سے یہاں ہیں۔ تین ماہ پہلے سنی کے خواب اس وقت سچے ثابت ہوئے جب وہ ایک بار اپنے پندرہ کلاس فیلوز کے ہمراہ کرکٹ کھیلے۔

سنی نے بی بی سی تھائی کے نامہ نگار کو بتایا 'یہ لمحہ بہت یادگار تھا۔ میں چار برسوں سے باہر نہیں جا سکا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI
Image caption لائنز آف جوڈا میں پڑھائی کا ایک منظر

سولہ پاکستان مسیحی نوجوان جن کی عمریں چار سے بیس برس کے درمیان ہیں، وہ اس مرکز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان بچوں کے خاندان پاکستان میں مذہبی جبر سے بھاگ کر تھائی لینڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ میں کوئی غیرقانونی تارک وطن اپنے بچوں کو اس سے بہتر کوئی سہولیت فراہم نہیں کر سکتا۔

سنی اور دوسرے نوجوان 'دی لائن آف جوڈا' نامی ایک سینٹر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ایک پاکستانی نے بینکاک میں قائم کر رکھا ہے۔ یہ تعلیمی سینٹر اس اپارٹمنٹ میں قائم ہے جہاں پاکستان پناہ گزین رہتے ہیں۔

یہ پاکستانی پناہ گزین تھائی لینڈ میں اپنی غیر قانونی حیثیت کے باوجود اپنے آپ کو کسی حد تک محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا مالک مکان ان کی صورتحال کو سمجھتا ہے۔

اس سینٹر پر تعلیم حاصل کرنے والے سولہ طالب علموں میں سے صرف تین ایسے ہیں جنہیں یواین ایچ سی آر نے مہاجرین کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ دوسرے تیرہ لوگوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

اس تعلیمی ادارے کو قائم کرنے والے پاکستانی مسیحی جیک اب’ دی لائن آف جوڈا‘ تعلیمی مرکز میں معلم کی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

انھوں نے یہ سینٹر ایک امریکی جوڑے کی مدد سے قائم کیا ہے۔ وہ کہتا ہے یہ مرکز بہت اعلیٰ تو نہیں ہے لیکن وہ ان بچوں کو کچھ امید تو دلاتا ہے۔

انھوں نے بائیبل کا وہ حصہ بورڈ پر لکھ رکھا ہے جو مشکل صورتحال میں صبر کی تلقین کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI
Image caption ایورٹ ملر پاکستان بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں

وہ کہتے ہیں ہمارے لیے صورتحال اچھی نہیں، لیکن ہم صابر ہیں اور دعا کرتے ہیں۔

دو ماہ پہلے تک یہ طالبعلم زمیں پر بیٹھتے تھے۔ لیکن اب انھیں فنڈ مل رہے ہیں اور اس مرکز میں فرنیچر بھی ہے اور کتابیں بھی۔ ’بیپٹسٹ گلوبل ریسائنس نامی تنظیم نے انھیں دس ٹیبلٹ خرید کر دیئے ہیں۔

ملرز نہ صرف اس مرکزکو چلانے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ وہ پانچ پاکستانی والدین کو اپنے بچوں کو گھر میں تعلیم دینے کی تربیت دے رہے ہیں۔ وہ اگلے ماہ سری لنکا سے آئے ہو اٹھارہ طالب عملوں کے لیے اسی طرح کا مرکز قائم کرنا چاہیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI

جیکب نے پاکستان کیوں چھوڑا؟

2013 میں لاہور میں جوزف کالونی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس نے جیکب کو یقین دلایا کہ اب مسیحی مذہب کے ماننے والوں کا پاکستان میں رہنا دشوار ہو چکا ہے۔

جیکب کراچی میں رہائش پذیر تھے۔ ایک دن ان کی بستی میں طالبان زندہ باد کے نعرے لکھے گئے۔ ان پوسٹروں میں غیر مسلمانوں کو مارنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ جب جیکب کی آبادی کے لوگوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ جیکب کراچی چھوڑ کر حیدرآباد چلے گئے لیکن ان کا خاندان بالاخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اب ان کا پاکستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہےاور انھوں نے تھائی لینڈ جانے کا فیصلہ کیا۔ جیکب نے جب پاکستان چھوڑا اس وقت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI
Image caption ایک کرسچیئن تنظیم بچوں کی تعلیم کے لیے دس ٹیبلٹ دیے ہیں

جیکب کہتے ہیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں، بہت تھکا دینے والا ہے لیکن وہ انھیں خدا سے حکم ہوا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کریں۔

تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانےکے اہلکارعامر نوید نے بی بی سی تھائی سے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کوغلط قرار دیا کہ پاکستان میں مختلف مذہب کے لوگوں میں کوئی جھگڑا ہے۔ عامر نوید کے مطابق پاکستان میں مسیحی لوگوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔

اپارٹمنٹ کے اس فلور پر جہاں ’لائنز آف جوڈا‘ وہاں ایک اور تعلیمی مرکز قائم ہے جہاں چار سے سولہ برس کی عمر کے پندرہ طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

روتھ اس مرکز میں معلم ہے۔ روتھ کہتی ہیں کہ ہرروز طالب علموں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ پہلے اس مرکز میں پچیس بچے زیرِ تعلیم تھے لیکن اب ان میں سے کئی واپس جا چکے ہیں۔ روتھ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو مہاجرین کا درجہ نہیں دیا گیا ہے اور انھوں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI

روتھ بتاتی ہے کہ لاہور میں ان کے خاندان کو مسلمان شدت پسندوں نے موت کی دھمکیاں دی تھیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اس لیے تھائی لینڈ کا انتخاب کیا تھا کیونکہ ان کے انکل پہلے تھائی لینڈ میں موجود تھے۔ لیکن تین سال بعد بھی مہاجر کا درجہ کے لیے دی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ پریشان ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پاکستان میں تھیں تو ایک پرائیوٹ ہسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے۔ اگر ہم واپس جاتے ہیں، ہم مارے جائیں گے۔ 'وہ (مسلمان شدت پسند) سمجھتے ہیں جو شخص مسلمان نہیں ہے اسے زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔'

اس تعلیمی مرکز میں دو استاد ہیں جو سائنس، مذہب، ریاضیات، انگلش اور اردو پڑھا رہے ہیں۔ روتھ بتاتی ہیں کہ وہ بچوں کو انگلش کی تعلیم اس لیے دے رہی ہیں کہ وہ کسی تیسرے ملک میں گزارہ کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NANCHANOK WONGSAMUTH/BBC THAI

یہ استاد ان بچوں کی اخلاقی مدد بھی کرتے ہیں جنھیں پولیس غیرقانونی طور پر ملک میں رہنے کی وجہ سے گرفتار کرتی ہے۔

روتھ بتاتی ہیں کہ بچے دن بدن تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب کوئی صبح ہمارے کمرے پر دستک دیتا ہے تو ہم ڈر جاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ شاید پولیس یا امیگریشن والے آئے ہیں۔

ولسن چوہدری برطانیہ میں قائم برٹش پاکستانی کرسچیئن ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم گزشتہ دو برسوں سے بینکاک میں دو تعلیمی مرکز چلا رہی ہے اور جلد ایک اور مرکز بھی کھولے گی۔

ولسن چودھری بتاتے ہیں کہ انھیں دنیا بھر سے کرسچیئن تنظیموں سے عطیے ملتے ہیں اور ان کی مدد سے پاکستان میں مذہبی جبر کا شکار لوگوں کے لیے چار محفوظ گھر قائم کر رکھے ہیں۔ ہر مرکز میں چھ لوگ رہ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI

نرگس اقبال غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی سینٹر آئی ڈی سی میں سلاخوں کے پیچھے کھڑی ہیں جہاں انھوں نے بی بی سی تھائی سے بات چیت کی۔ وہ اپنے شوہر کو دیکھ کی مسکرائی جو اسے دیکھنے کے لیے ہر روز وہاں آتا ہے اوراس کے لیے کھانا بھی لے کر آتا ہے۔ یہاں کئی درجن لوگ بند ہیں۔ نرگس اقبال نے بی بی سی تھائی کو بتایا کہ وہ دو سال پانچ ماہ سے حراست میں ہیں۔ وہ پراچہ اتت روڈ پر واقع ایک تعلیمی مرکز میں پڑھاتی تھیں جب انہیں گرفتار کر کے یہاں لایا گیا تھا۔

اس مرکز پر 67 طالب علم تھے جن میں کچھ کو گرفتار کر لیا گیا جب کچھ فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ کچھ کو یو این ایچ سی آر نے آزاد کرایا۔

کولیشن فار دی رائٹس آف ریفوجی اینڈ سٹیٹ لیس پرسن کے مطابق اب بھی چالیس بچے حراستی مرکز میں قید ہیں۔ ان سب کو ان کے والدین کے ہمراہ گرفتارکیا گیا تھا۔ ان میں بیس بچے ریفوجی درجے حاصل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ تیئس جنوری کو نو اور بچوں کو انوٹ ایریا سے گرفتار کیا گیا تھا۔

بینکاک میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان حانا میکڈونلڈ نے بی بی سی تھائی کو بتایا کہ یو این ایچ سی آر پناہ کے متلاشی لوگوں خصوصاً بچوں کی حراست کا مخالف ہے۔ البتہ یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ بچوں کی حراست کو ختم کرنے سے متعلق تھائی لینڈ کی حکومت نے حوصلہ افزا اقدامات کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASAWAT LUKHARANG/BBC THAI

تھائی لینڈ کی حکومت ایک طریقہ وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے تھائی لینڈ میں رہائش کے دوران ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے گا۔

تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے ترجمان بوسدی سینتی پی تکس نے کہا کہ باوجود اس کے تھائی لینڈ کنونشن آن سٹیسٹس آف ریفیوجی 1951 کا حصہ نہیں ہے لیکن تھائی لینڈ انسانی بینادوں ایسے لوگوں کی مدد کے لیے اس کا فریق بننے کا سوچ رہا ہے۔

نرگس اقبال جو دوسال اور پانچ ماہ سے تھائی لینڈ کے حراستی مرکز میں قید ہے، کہتی ہے کہ میرا منہ زخمی ہے، میں کھانا نہیں کھا پاتی ۔ اس کے باوجود نرگس اقبال نے کہا کہ پاکستان جانے کے بجائے وہ تھائی لینڈ میں مرنے کو ترجیح دیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں