’پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا‘

Image caption لیاقت چنگیزی پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ دہائی کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کا متواتر نشانہ بننے والی ہزارہ برادری کے سينکڑوں خاندان ہجرت کر کے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد انڈونیشیا میں بھی موجود ہے۔

انڈونیشیا نے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اور یہاں پناہ گزینوں کو تعلیم اور روز گار جیسے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

یہاں آنے والے پناہ گزین خود کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین 'یو این ایچ سی آر' کے ساتھ رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور پھر ادارہ ان پناہ گزینوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے لیکن اس سارے عمل میں کئی برس لگ جاتے ہیں۔

انڈونیشیا میں ہزارہ پناہ گزین بچے کیسے تعلیم حاصل کر رہے ہیں

’کسی کی سوچ کی پروا نہیں کی‘

ہزارہ کی واپسی

انڈونیشیا میں مقیم ہزارہ پناہ گزینوں میں پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے لیاقت چنگیزی اور ان کا خاندان بھی شامل ہیں۔ انھوں نے سنہ 2013 میں اپنے خاندان سمیت پاکستان کو خیرباد کہا۔

لیاقت پاکستان میں میڈیا انڈسٹری سے وابستہ تھے اور پاکستان ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری بھی کر چکے ہیں۔ جن میں نوے کی دہائی کا مقبول ڈرامہ دھواں بھی شامل ہے۔

پاکستان چھوڑنے کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ میں بہت نامور میڈیا شخصیت نہیں تھا لیکن میڈیا سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ کی حد تک کافی لوگ مجھے جانتے تھے۔ جس کی وجہ سے مجھے سنہ 2007 سے ہی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئی تھیں،میرے دو قریبی دوست حسین علی یوسفی اور عابد نازش جو اسٹیج اداکار بھی تھے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔لیکن میں نے پاکستان کو چھوڑنے کا حتمی فیصلہ سنہ 2013 کے خونی سال کے بعد کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو متعدد بار دہشت گردی کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا

خیال رہے کہ 2013 میں کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو متعدد بار دہشت گردی کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا جن میں فروری کے مہینے میں کیا جانے والا بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ میری کی زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا، مگر ہمیں مجبوراً ایسا کرنا پڑا، بچوں کے سکولوں کے قریب حملے ہو رہے تھے۔ ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا۔'

'ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ سکول والوں نے ہمیں کہا کہ آپ اپنے بچوں کو سکول نہ بھجیں، ان کی وجہ سے دوسرے بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔‘

اس سوال پر کہ وہ انڈونیشیا کیسے پہنچے انھوں نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان ویزہ لے کر پہلے سنگاپور گئے پھر وہاں سے سمگلروں کو پیسے دے کر انڈونیشیا آئے۔ لیاقت کے مطابق سنگاپور سے انڈونیشیا کا سفر بہت کٹھن تھا ایجنٹ انھیں مختلف جنگلوں اور آبی راستوں سے گزار کر انڈونیشیا لائے تھے۔

لیاقت کےبقول انھوں انڈونیشیا پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں پناہ گزینوں کو روزگار اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے پناہ گزینوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے میں اکثر کئی برس لگ جاتے ہیں۔

'مجھے سب زیادہ پریشانی بچوں کی تعلیم کی تھی، ہم انھیں کسی بھی سرکاری سکول میں نہیں بھیج سکتے تھے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میری طرح بہت سے والدین کو یہ پریشانی لاحق ہے۔ اسی لیے میں نے کچھ دیگر دوستوں کے ساتھ ملکر پناہ گزینوں کے لیے ایک سکول بنانے کا فیصلہ کیا۔'

رفیوجی لرننگ سنٹر نامی یہ سکول انڈونیشیا کے شہر بگور میں واقع ہے اور اس وقت اس میں دو سوں سے زیادہ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ سکول کا تمام عملہ بشمول اساتذہ ہزارہ پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ بگور انڈونیشیا کا وہ شہر ہے جہاں ہزارہ پناہ گزینوں کی اکثریت رہتی ہے۔

Image caption بگور میں سینکڑوں ہزارہ خاندان مقیم ہیں۔

بگور ایک سیاحتی شہر ہے جہاں کاموسم ملک کے دیگر حصوں کی نسبت قدرے سرد رہتا ہے۔ لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں ہزارہ برادری کی جانب سے اس شہر میں آباد ہونے کی وجہ یہ موسم ہی ہے۔

انڈونیشیا کے مقامی لوگوں کے حوالے سے لیاقت نے بتایا کہ یہاں مقیم ہزارہ برادری کو اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے۔' مقامی لوگوں کا رویہ ہمارے ساتھ بہت اچھا ہے، صرف زبان کا مسئلہ ہے، وہ ہمیں نہیں سمجھ سکتے اور ہم انھیں کیونکہ یہاں لوگ انگلیش کم ہی بولتے ہیں۔'

بگور میں میری ملاقات پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کے کئی خاندانوں سے ہوئی، جس سے واضح تھا کہ یہاں آنے والوں میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جن میں اعلی سابق سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات بھی ہیں۔

پاکستان واپس آنے کے بارے میں کیے گئے سوال پر لیاقت چنگیزی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان ہمارا ملک تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اگر آج بھی امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو ہم واپس جانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔'

اسی بارے میں