اٹلی میں فائرنگ سے چھ پناہ گزین زخمی ہو گئے

اٹلی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شہر کے مختلف علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں

پولیس کے مطابق اٹلی میں ایک شخص نے گاڑی کے اندر سے فائرنگ کر کے کم از کم چھ افراد کو زخمی کر دیا ہے۔ بظاہر یہ نسلی تعصب کا واقعہ لگتا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ میچراتا شہر میں پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد غیر ملکی تھے۔

ملزم کا نام لوکا ترینی بتایا گیا ہے اور اس کی عمر 28 برس ہے۔ اس نے گرفتاری کے وقت گردن پر اٹلی کا جھنڈا لپیٹا ہوا تھا اور اس بات کے شواہد ہیں کہ یہ حملہ نسلی تعصیب کی بنیاد پر کیا گیا۔

شہر کے بعض دیگر علاقوں سے بھی فائرنگ کی آوازیں آئی ہیں اور میئر نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں۔

زخمیوں کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے، اور ان میں سے کم از کم ایک کی حالت نازک ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق زخمی سیاہ فام پناہ گزین ہیں۔

لا رپبلکا ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوا اور حملہ آور کو دو گھنٹے بعد پکڑا گیا۔

ملزم نے پناہ گزین مخالف سیاسی جماعت ناردرن لیگ کی طرف سے مقامی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا اور جب اسے پکڑا گیا تو اس نے فسطائی انداز میں سلیوٹ کیا۔

اٹلی میں چار مارچ کو انتخابات ہو رہے ہیں جن میں پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک اہم ایشو ہے۔

ترینی نے گرفتاری کے وقت مزاحمت نہیں کی۔ پولیس نے ان کی کار سے ایک پستول برآمد کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملزم لوکا ترینی نے مقامی انتخابات میں حصہ لیا تھا

لڑکی کی موت سے منسلک واقعہ؟

میچراتا کے دیگر علاقوں میں بھی فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ایک 18 سالہ لڑکی کے قتل کی تفتیش جاری ہے۔ اس لڑکی کا جسم کاٹ کر دو سوٹ کیسوں میں چھپایا گیا تھا۔

ایک 29 سالہ نائجیریائی پناہ گزین کو اس قتل کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس کے بعد سے فیس بک پر کئی متعصبانہ تبصرے دیکھنے میں آئے۔

مقامی میڈیا ان دونوں واقعات میں تعلق دیکھ رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں