پیرس: ’حملہ آور صالح‘ کے بارے میں پانچ حقائق

تصویر کے کاپی رائٹ Belgian/French police
Image caption مارچ 2016 میں عبدالسلام کی گرفتاری ڈرامائی انداز میں ایک چھاپے کے دوران عمل میں آئی ۔ یہ کارروائیاں ان کے گھر سے کچھ ہی دور کی گئی تھیں

13 نومبر سنہ 2015 میں پیرس حملے میں شامل واحد شخص صالح عبدالسلام ہی زندہ بچے تھے جن کے خلاف مقدمہ بیلجیئم میں جاری ہے۔

وہ چار ماہ کے بعد برسلز سے گرفتار ہوئے تھے۔

صالح جن پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے کو فرانسیسی جیل سے بیلجیئم کے دارالحکومت لے جایا جاتا ہے۔

یہاں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے یورپ میں ایک بڑے حملے کے اہم کردار کے بارے میں پانچ حقائق بتائےجا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیرس حملہ: صالح کے وکیل ان کا دفاع نہیں کریں گے

پیرس حملہ آور کے ’خون میں شراب اور منشیات تھیں‘

پیرس حملے کے منصوبہ ساز ’شام میں ہلاک‘

1) بیلجیئم انھیں 40 برس تک قید رکھ سکتا ہے

بیلجیئم کے تین پولیس افسران اور ان کے ایک فرانسیسی ساتھی اس وقت معمولی طور پرزخمی ہوئے تھے جب ایک گن مین نے انھیں 15 مارچ سنہ 2016 کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ برسلز کے ایک ضلع کے جنگل میں موجود رہائش گاہ کی تلاشی لے رہے تھے۔ وہ پیرس حملے کے حوالے سے تحقیقات کر رہے تھے۔

عبدالسلام یورپ میں مطلوب ترین شخص تھا۔

لیکن اس دن پولیس اس کی تلاش میں نہیں تھی جب ایک گن مین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ دو افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ان میں سے ایک کی شناخت عبدالسلام کے نام سے ہوئی جبکہ دوسرے کا نام صوفین یاری بتایا گیا۔

تین دن بعد ان کا پتہ مولن بیک میں لگایا گیا یہ علاقہ عبدالسلام کے آبائی گھر کے قریب ہی تھا۔ عبدالسلام کو گولی لگی جبکہ دوسرا شخص زخمی نہیں ہوا۔

صو فین نے بیلجیئم میں میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑتے رہے ہیں اور نومبر 2015 میں یونان کے راستے یورپ میں داخل ہوئے اور خود کو شامی پناہ گزین کے طور پر منیر احمد اور امین شکری کے نام سے متعارف کروایا۔

2) شاید عبدالسلام کا برسلز حملوں سے تعلق ہو

عبدالسلام کی گرفتاری کے چار دن بعد تین خودکش حملہ آوروں نے برسلز ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر 32 افراد کو ہلاک کیا اور 340 کو زخمی۔

بیلجئیم کے پراسیکیوٹر کا خیال ہے کہ عبدالسلام کا بمباروں کے ساتھ تعلق جوڑا جا رہا ہے لیکن کوئی بھی الزامات درج نہیں کروائے گئے۔

یہ بھی خیال ظاہر کیا گیا کہ وہ دولت اسلامیہ کے اس سیل کا حصہ تھے جو ایسٹر کے موقع پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا مگر جب وہ پکڑے گئے تب وہ آگے جا چکے تھے۔ ان کے جہادی دوست شاید پریشان رہے ہوں کہ ان کا ساتھی ہلاک ہو چکا ہے۔

ان کے وکیلِ صفائی نے بعد میں کہا کہ ان کا موکل حملوں کے بارے میں نہیں جانتا۔

3) ۔۔۔ وہ پیرس حملوں میں مر چکا ہوتا

اپنی گرفتاری کے بعد عبدالسلام کے پولیس کو دیے جانے والے بیان کے بارے میں فرانسیسی رپورٹس کے مطابق انھوں نے دیگر تین حملہ آوروں کو گاڑی میں لے جانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

اس نے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی جس کے بعد اس نے اپنی گن کوڑے دان میں ڈال دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں ہونے والے حملوں کے دو برس مکمل ہونے پر ملک کے صدر متاثرین کے رشتہ داروں سے ملتے ہوئے

ابتدا میں انھوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ تھا کہ وہ خود کو فرانس کے نیشنل سٹیڈیم کے باہردھماکہ خیز مواد سے اڑا لیں گے تاہم رپورٹس کے مطابق انھوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔

لیکن فرانسیسی ریڈیو نے ان کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خودکش بیلٹ میں خرابی تھی۔ ان کا یہ پیغام برسلز میں پھینکے گئے ایک کمپیوٹر سے ملا ہے۔

ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ’مجھے بہت اچھا لگتا اگر میں شہدا میں شامل ہوتا(یاد رہے کہ نو دیگر مشتبہ حملہ آور مارے گئے تھے۔) لیکن خدا نے کچھ الگ فیصلہ کر رکھا تھا اور میری بیلٹ میں کوئی خرابی تھی۔‘

پیرس میں کنسرٹ ہال، شراب خانوں اور سٹیڈیم میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے 130 افراد کے علاوہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 353 تھی۔

عبدالسلام اپنے ٹرائل کے منتظر ہیں جس میں ان پر ان حملوں میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ ان سے اس شک کی بنا پر تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ وہ دہشت گردی سے متعلق قتل اور اقدام قتل میں ملوث ہیں۔

4) وہ بات نہیں کرتے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسلز کے کورٹ ہاؤس کا ایک منظر

اپریل 2016 میں فرانس سے منتقل ہونے کے بعد سے 28 سالہ عبدالسلام سے تفتیشی مجسٹریٹ نے پانچ بار سوال و جواب کیے۔ آخری بار ایسا نومبر کے وسط میں ہوا تھا۔

ہر موقع پر انھوں نے جواب دینے سے انکار کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اطلاعات ہیں کہ انھوں نے جیل میں موصول ہونے والے خط کا جواب دیا اور کہا کہ’ مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں کہ میں کون ہوں؟‘

5) سخت سکیورٹی والی جیل میں منتقلی

اس مقدمے کی سماعت کے لیے انھیں موجودہ جیل جو کہ پیرس کے جنوب میں موجود ہے سے بیلجیئم کی سرحد کے قریب موجود جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز میں کیس کی سماعت کے دوران عبدالسلام وونڈن لی ویل سے روزانہ کی بنیاد پر عدالت تک جائیں گے

وونڈین لا ویل جنوبی شہر لِل (Lille)کے قریب ہے جو کہ برسلز سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ فرانس کی سب سے زیادہ سکیورٹی والی جیل ہے۔

عبد السلام کے لیے اس جیل کا ایک حصہ مخصوص ہوگا۔

یہ جیل رواں برس جنوری میں اس وقت خبروں کی مرکز بنی جب ایک جہادی تنظیم سے تعلق رکھنے والے قیدی نے جیل کے محافظ پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ اس کی وجہ سے جیل کے افسران نے بڑے پیمانے پر غیر معمولی احتجاج کیا۔

حملہ کرنے والا قیدی گینزرسکی نائن الیون کے مقدمے میں امریکہ کو حوالگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں اس سے قبل سنہ 2002 میں تیونس میں ہونے والے حملے میں 15 سال قید مل چکی ہے جو القاعدہ نے کیا تھا۔ اس حملے میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہر روز عبدالسلام کو کیسے برسلز لے جایا جائے گا؟ اس سلسلے میں انتظامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس مقدمے کی سماعت کے حوالے سے برسلز میں خصوصی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق وہ یہ توقع کر سکتے ہیں کہ انھیں تقریباً ایک سو پولیس اہلکاروں کا سامنا کرنا ہوگا جو بیلجیئم کے پیلس آف جسٹس کے باہر تعینات ہوں گے۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شہر کی نگرانی کی جائے گی اور عدالت کے باہر موجود کار پارکنگ کو عارضی طور پر بند کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی دارالحکومت میں پیرس حملوں کے حوالے سے ہی ایک اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ مقدمہ جواد بن داؤد اور محمد ثومہ کا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے حملہ آوروں کے لیے رہائش کا انتظام کیا تھا۔ اگر اُن پر یہ الزام ثابت ہو گیا تو انھیں چھ سال قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس مقدمے میں تیسرا شخص یوسف ہے جن پر اگر فرد جرم عائد ہوئی تو انہیں پانچ سال قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں