سینا میں اسرائیلی فضائی حملے اس کے عربوں سے بڑھتے تعلقات کے عکاس

Image caption نیویارک ٹائم کا دعوی ہے کہ قاہرہ کی رضامندی سے اسرائیل نے مصر میں فضائی حملے کیے ہیں

گذشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ کے مقتدر ترین اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک دلچسپ خبر دی۔

شہہ سرخی تھی ’خفیہ اتحاد: قاہرہ کی رضامندی سے اسرائیل کے مصر میں فضائی حملے‘۔ یہ صحافی ڈیوڈ ڈی کرکپیٹرک تھے جنہوں نے اس خبر میں اس غیرمعملولی اور انتہائی خفیہ فوجی تعلقات کی تفصیلات پیش کیں۔

انھوں نے لکھا ’دو سال سے زائد عرصے سے بے نشان اسرائیلی ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور جیٹ طیارے ایک مہم کے تحت مصر کے اندر 100 سے زیادہ فضائی حملے کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ہفتے میں ایک سے زیادہ بار کیے گئے۔ ان سب کارروائیوں کے لیے اسرائیل افواج کو صدر السیسی کی اجازت حاصل تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا یروشلم اب عربوں کا مسئلہ ہے؟

’اسلامی دنیا بہت زیادہ منقسم ہے‘

’مصر کا اسرائیل کے ساتھ سنہ 1979 میں امن معاہدہ ہوا جسے عموماً سرد امن کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘

حتیٰ کہ اب بھی دونوں ممالک میں کسی قسم کا اشتراک ہی نادر ہے چہ جائیکہ فضائی حملے کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سینا میں کئی حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروہوں نے قبول کی

اس ساری کہانی کا لبِ لباب یہ تھا کہ مصری فوج صحرائے سینا میں اسلامی شدت پسندی سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار تھی لہذا اس نے اسرائیل سے مدد طلب کی۔ اس تعلق کا دونوں ممالک کو فائدہ تھا۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’قاہرہ کے لیے اسرائیل مداخلت دراصل مصری فوج کی مدد تھی جو اسے خطے میں سدت پسندوں کے خلاف پانچ سال سے جاری لڑائی کے دوران قدم جمانے میں ملی۔‘

’اسرائیل کے لیے یہ فضائی حملہ اس کی اپنی سرحدوں کے تحفظ کو تقویت دینے کے اور ہمسائیہ ملک کی سلامتی اور مستحکم کرنے کے مترادف ہیں۔ ‘

یہ پوری کی پوری خبر اسرائیل اور مغربی ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے۔ اس خبر نے مصر کے میڈیا میں اضطراب پیدا کر دیا اور مصر میں سرکاری دباؤ کے زیر اثر کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے اسے غیر پیشہ وارانہ صحافت اور جعلی خبر قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سینا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف حال ہی میں کئی کارروائیاں کی گئیں

مصری فوج کے ترجمان کا اصرار ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف صرف مصر فوج ہی پرسرِ پیکار ہے۔

ایسا فوجی تعاون اگر یہ بات سچ ہے تو۔۔۔ مصری حکام کے لیے انتہائی حسّاس معاملہ ہوگا۔

لیکن فضائی حملوں کی خبروں پر جن میں ڈرون اور طیاروں کے حملے دونوں ہی شامل تھے ان کے بارے میں یقیناً حیران امر یہ تھا یہ حملے آخر کون کر رہا ہے۔

یہ خبر خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں درست دکھائی دیتی تھی۔

ایران مخالف اتحاد؟

ایران کی ترقی اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کے باعث کچھ ممالک کو خطرے کا احساس ہوا جن میں سعودی عرب، مصر اور اردن بھی شامل ہے۔

حالات نے کچھ سنی عرب ریاستوں کو اسرائیل کے قریب تر کر دیا۔ ان سب کو ہی ایران کے خطے میں کردار اور اس کے جوہری پروگرام پر خدشات تھے اور امریکہ کی جانب سے تہران کو مزید رعایت ملنے کے اشارے تھے۔

سفارتی اشارے بتا رہے ہیں کہ شاید اس مفاہمت کے تیئں کچھ حقیقی اقدام بھی ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے کہیں کچھ ہلکے پھلکے اور کہیں اس سے کچھ زیادہ اشارے ملتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد العیسٰی نے ان لوگوں کی مذمت کی جو اس ہولوکاسٹ کے ہونے سے ہی انکاری ہیں

حال ہی میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے سیکرٹری جنرل محمد العیسٰی نے واشنگٹن کے ہولوکاسٹ میوزیم کو ایک کھلے خط میں جنگ عظیم دوم کے ہولوکاسٹ کا شکار ہونے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا اور انھوں نے ان لوگوں کی مذمت کی جو اس ہولوکاسٹ کے ہونے سے ہی انکاری ہیں۔

دہائیوں تک ہولوکاسٹ سے انکار کے بعد ایک اعلی مذہبی رہنما کی جانب سے ایسا بیان اہمیت کا حامل تھا۔

کیا اسرائیل کو اس کی خواہشات کا ثمر ملے گا؟

عرب دنیا میں کسی نہ کسی کو ایسے واقعات کو پیش کرنا ہے تاکہ وہ اندرونِ خانہ ہونے والی تبدیلیوں کا اشارہ دے سکیں۔

تاہم اسرائیلی اس معاملے میں کافی صاف گو ہیں جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہو گا یہ دانشمندی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف نجی بریفنگز میں ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اس بات کا اظہار کرتے ہیں وہ سنی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے لندن میں ایک تھنک ٹینک میں اسے کچھ اس طرح پیش کیا۔ خطے میں ہونے والے تبدیلیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’بری خبر یہ ہے کہ روایت پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جنگ میں روایت پسند آگے بڑھ گئے ہیں خاص کر ایران کے معاملات میں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ دوسرے لوگ اسرائیل کے ایسے قریب آ رہے ہیں جیسے کبھی نہیں آئے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک اور چیز جس کی میں نے اپنی زندگی میں توقع نہیں کی تھی لیکن ہم اس پر کافی محنت کر رہے ہیں وہ ہے ایران کا مقابلہ کرنے اور اسے ہرممکن حد تک روکنے کے لیے اسرائیل اور سنی ریاستوں کے درمیان بااثر اتحاد۔ ‘

اسرائیلی وزیراعظم نے یہ نکتہ بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ ’جیسے جیسے آپ خلیج فارس جسے وہ خلیجِ عرب کہتے ہیں کی طرف جاتے ہیں آپ کو وہاں اسرائیل کے لیے رویوں میں نرمی دکھائی دیتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہمارے پڑوسی فلسطین اب بھی سخت موقف رکھتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اسرائیل کے لیے نرمی آئی ہے۔‘

نیتن یاہو کی جانب سے فلسطین کا ذکر کرنا ایک ایسا عنصر ہے جو اس بحث کو سطح عمومی پر لے آئے گا۔

اگرچہ امریکی صدر کی جانب سے امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کیے جانے پر عرب سنی رہنماؤں کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر ردِ عمل نہیں دیا گیا لیکن عرب معاشرے میں دانشوروں اور عوام کے رویوں میں اسرائیل کے لیے نرمی ظاہر نہیں ہوتی۔

یہاں تضاد ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے یہ ایسا لمحہ ہے جسے اسرائیل فلسطین امن عمل کو بڑھانے کے لیے موقعے کے طور پر اور اسرائیل اور جدت پسند عربوں کے درمیان تعاون کی فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن بعض سنی عرب ریاستوں کو اسرائیل رہنما نتن یاہو کی کچھ پالیسیوں پر تحفظات ہیں اور وہ ان سے مزید باہمی سلامتی کے معاملات میں وسیع تر اتفاقِ رائے کے خواہشمند ہیں۔

اور وہیں کچھ اسرائیلی اس بات پر مایوس ہیں کہ بہت کچھ ممکن تھا لیکن اس موقعے کو ضائع کر دیا گیا۔

نیتن یاہو کی حکومت اس بات کے اشارے دے رہی ہے کہ اسے اس کی خواہشات کا پھل مل بھی جائے گا اور وہ فلسطین کے مسئلہ کو حل کیے بغیر بھی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنا لے گا۔

اسی بارے میں