شام: حکومت حامی فورسز پر امریکی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے مطابق اس نے کرد اور عرب اتحادی جنگجوؤں پر ’بلا اشتعال حملے‘ کے بعد شامی حکومت حامی فورسز پر غیر معمولی فضائی حملے کیے ہیں۔

بدھ کو کیے جانے والے ان حملوں میں امریکی حکام کے مطابق تقریباً 100 حکومت حامی جنگجو مارے گئے ہیں۔

مبینہ طور پر یہ حکومت حامی فورسز درائے فرات کے مشرقی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جس پر پہلے ہی امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے قبضہ حاصل کیا تھا۔

مزید پڑھیے

شام: عفرین آپریشن میں ترکی کے سات فوجی ہلاک

شام: باغیوں کے علاقے میں روسی جنگی جہاز مار گرایا گیا

’شام میں امریکی فوج رکھنا تباہ کن غلطی ہے‘

سرکاری میڈیا کے مطابق اس امریکی ’جارحیت‘ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ دریائے فرات کے علاقہ کو مشرقی شام میں غیر رسمی حد بندی کا مقام حاصل ہے، جہاں مغربی حصہ حکومت کے کنٹرول میں ہے جبکہ مشرقی حصہ ایس ڈی ایف کے پاس ہے۔

اس علاقے میں گذشتہ سال کئی جھڑپیں ہوئیں کیونکہ حکومت اور ایس ڈی ایف دونوں ہی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو اس علاقے سے نکالنا چاہتے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اتحادی فوج کے وہ ارکان جو مشاورتی اور امدادی حیثیت میں کام کر رہے تھے، حملے کے دوران ایس ڈی ایف کے ہمراہ ان کی نشاندہی دریائے فرات سے آٹھ کلومیٹر مشرق میں اس علاقے میں ہوئی جسے لڑائی سے پاک قرار دیا گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اتحادی اور شراکتی فورسز کے دفاع میں، اتحادیوں نے جارحیت کو روکنے کے لیے ان فورسز پر حملہ کیا۔ اپنے دفاع کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

امریکی فوج کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا ہے کہ تقریباً 500 حکومت حامی جنگجو، جن کے پاس اسلحہ، ٹینک، ملٹیپل لانچ راکٹ سسٹم اور مارٹرز تھے اس حملے میں شامل تھے۔

اس حملے کے دوران ایس ڈی ایف کا ایک جنجگو زخمی ہوا جبکہ امریکی فورسز میں سے کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی سربراہی میں کام کرنے والے اتحادیوں کو معلوم ہوا ہے کہ حکومت حامی فورسز گذشتہ ہفتے سے اس علاقے میں اکھٹی ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے روس کو خبردار کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو شام کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکی اتحادیوں نے ’معروف فورسز‘ جو کہ دولت اسلامیہ اور ایس ڈی ایف کے خلاف لڑ رہی ہیں پر دریائے فرات کے مشرقی علاے میں بمباری کی ہے۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹس میں امریکہ کی جانب اسے ’نئی جارحیت‘ اور ’دہشت گردی کی حمایت کی کوشش‘ قرار دینے کو مسترد کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں