شامی کردوں کے ہاتھوں دولت اسلامیہ کا ’بیٹلز‘ گینگ گرفتار: امریکی حکام

Alexanda Kotey, left, and El Shafee Elsheikh تصویر کے کاپی رائٹ KOTEY/FAMILY HANDOUT
Image caption بائیں جانب الیگزینڈا کوٹے اور دائیں جانب الشافی الشیخ موجود ہیں

امریکی حکام کے مطابق شامی کردوں نے جن دو برطانوی شہریوں کو گرفتار کیا ہے ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے رکن ہیں۔

34 سالہ الگزینڈا کوٹے اور29 سالہ الشافی الشیخ دولت اسلامیہ کے سیل میں بچ جانے والے دو آخری ممبران تھے۔

ماضی کے معروف برطانوی بینڈ ’بیٹلز‘ کے نام سے منسوب ہونے والے ان چاروں برطانوی شہریوں کا تعلق لندن سے ہے۔

’میں پہلے جہادی تھی اب جہاد کے خلاف ہوں‘

دولت اسلامیہ کی برطانوی رکن ’ڈرون حملے میں ہلاک‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موت کی سزا دیے جانے والے اس سیل میں 27 مغربی مغویوں کا سر قلم کیا گیا اور بہت سے دوسروں پر تشدد کیا گیا۔

اس گروپ کا سربراہ مبینہ طور پر محمد اموازی تھا جسے جہادی جان کہہ کر پکارا جاتا تھا اور جو سنہ 2015 میں شام میں بمباری کا نشانہ بنا تھا۔

اس گروہ کا ایک اور مشتبہ رکن این ڈیوس تھا جسے گذشتہ برس ترکی میں دہشت گردی کے الزامات میں قید کیا گیا تھا۔

ان حالیہ گرفتاریوں کی تصدیق امریکی حکام نے کی ہے۔ ابھی پکڑے جانے والے افراد کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہیں اور برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے انفرادی کیسوں اور تفتیش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

حکام نے کہا ہے کہ دو افراد کو امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورس نے گرفتار کیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کو جنوری کے وسط میں بتایا گیا تھا کہ شاید ان دونوں کو پکڑ لیا گیا ہے بعد میں ان کی شناخت کا عمل فنگر پرنٹس اور دیگر بائیو میٹرک سسٹم کی مدد سے ہوا تھا۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ چاروں افراد بہت سے مغربی باشندوں کا سر قلم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

ایموزی کویت میں پیدا ہوئے تھے جو کہ دولت اسلامیہ کی ویڈیوز میں ماسک پہنے دکھائی دیتے تھے اور کسی بھی شخص کا سر قلم کرنے سے پہلے مغربی طاقتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔

ان کا شکار ہونے والے افراد میں برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہانیس اور الن ہیننگ، امریکی صحافی جیمز فولے اور سٹیون سوٹلوف اور امریکی امدادی کارکن پیٹر کاسنگ شامل ہیں۔

اسی بارے میں