جنسی تعصب کے خلاف کولمبیا میں طالبات کا منی سکرٹس میں احتجاج

Students from the political science faculty تصویر کے کاپی رائٹ Mariana Duque Díez
Image caption پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کی سٹوڈنٹس منی سکرٹ میں احتجاج کرتے ہوئے

کولمبیا میں ایک یونیورسٹی کو اس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ طالبات کو منی سکرٹ نہ پہننے کا مشورہ دینا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے ساتھ موجود ساتھیوں اور اساتذہ کی توجہ بٹ جاتی ہے۔

اس صلاح کو جنسی تعصب کا نام دے کر طلبا نے اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ وہ جمعرات کو منی سکرٹ پہن کر کیمپس آئیں۔

یو پی بی کے نام سے معروف میڈلین شہر کی پونٹیفیکل بولفیرین یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبہ کو یہ مشورہ اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا تھا۔

احتجاج کے جواب میں یونیورسٹی نے کہا کہ اس کا مقصد صرف مشورہ دینا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’اگر سکرٹ پہنی تو جہاز سے اترنا پڑ سکتا ہے‘

فرانس میں بھی بنیادپرست اسلام اور عالمگیریت کے خلاف لہر

چیف جسٹس کی سکرٹ کے متنازع بیان پر خواتین سے معافی

اپنے بیان میں یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ شخصی اظہار کے حق کا احترام کرتی ہے اور اس نے کبھی سٹوڈنٹس پر ڈریس کوڈ کے حوالے سے سختی نہیں کی۔

انتظامیہ نے ویب سائٹ پر لگائی جانے والی پہلی پوسٹ کو ہٹا دیا ہے۔

تاہم ہٹائی جانے والی پوسٹ جس ہیڈ لائن کے ساتھ لگائی گئی تھی وہ کچھ یوں تھی ’آپ کو کیسا لباس پہن کر یونیورسٹی جانا چاہیے۔‘

کچھ تجاویز تو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے بلا تخصیص جنس کے دی گئی تھیں تاہم بہت سے ایسی تجاویز تھیں جو خواتین کے لیے تھیں۔ جیسے ’اس سے زیادہ پریشانی اور کچھ نہیں کہ ہم جماعتوں اور اساتذہ کی توجہ بٹے۔ اس وجہ سے ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ گہرے گلے، شارٹ سکرٹ یا ٹائٹ فٹنگ والے کپڑے مت پہنیں۔‘

یہ تجاویز 30 جنوری کو پوسٹ کی گئی تھیں جس کے بعد طلبا و طالبات نے سوشل میڈیا پر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ #UPBEnFalda آن لائن مہم چلائی۔ جس کا مطلب ہے یو پی بی منی سکرٹ میں۔

جمعرات کو سٹوڈنٹس نے منی سکرٹس میں اپنی تصاویر شیئر کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Via Twitter
Image caption آن لائن مہم میں کہا گیا ہے کہ تمھاری توجہ بٹتی ہے یا نہیں اس کا انحصار میری سکرٹ پر نہیں ہوتا۔ کل سب سکرٹ پہنیں

مقامی صحافی جینی گرلاڈو نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اپنی کپڑوں کو چیک کرنے آئیڈیا دراصل اس خیال سے ماخوذ ہے کہ لوگ ریپ نہ ہوں اور دوسرے لوگ خود کو کنٹرول کر سکیں۔

ایک طالبہ ہیلینا نے ٹویٹ کی کہ وہ جو سوچ رہے ہیں کہ ہم گہرے گلے اور منی سکرٹ پہن کر اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں وہ غلط ہیں ہم ان پیغامات کو روکنا چاہتے ہیں جو خواتین کی بے عزتی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

سٹی کاؤنسلر ڈنیلا متورانہ نے بھی ٹوئٹ کی ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی عورت سکرٹ پہنتی ہے یا شارٹس یا کچھ بھی جو وہ چاہے۔ وہ سبز بتی نہیں اور یہ ہراسگی کے لیے دعوت نہیں ہے۔

پولیٹیکل سائٹس کی طالبہ ماریانہ ان طالبات میں شامل ہیں جنھوں نے جمعرات کو منی سکرٹ پہنی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اور ان کی ایک ٹیچر اکثر ایسا لباس پہنتی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بہت سے سٹوڈنٹس اور اساتذہ ادارے کی قدیم سوچ کی ترجمانی نہیں کرتے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اس یونیورسٹی پر جنسی تعصب کا الزام لگا ہو۔

سنہ 2015 میں بھی ایک سمر سکول لانچ کیا گیا تھا جس میں پانچ سے 10 سال کی بچیوں کو اچھے آداب سکھانے کا اہتمام کیا گیا اور اس کورس کو ’گرلز تھنگز‘ کا نام دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pontifical Bolivarian University
Image caption سمر سکول

اسی بارے میں