یہودی بستیوں کا معاملہ امن عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے: ٹرمپ کا انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر نے گذشتہ برس دسمبر میں امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کر کے فلسطینیوں کو ناراض کر دیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یہودی آبادکاری کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ اس سے امن عمل پیچدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

انھوں نے ایک اسرائیل اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل امن مذاکرات کے لیے فی الحال راضی ہیں۔

امریکی صدر نے گذشتہ برس دسمبر میں امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کر کے فلسطینیوں کو ناراض کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

مزید یہودی بستیاں امن کے لیے مددگار نہیں ہوں گی: امریکہ

اسرائیل مغربی کنارے پر مزید 2500 مکانات تعمیر کرے گا

فلسطینی مسئلے کا دو ریاستی حل ہے کیا؟

اس کے علاوہ انھوں نے فلسطین کی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی۔

اسرائیلی اخبار یسرائیل ہیوم کے ایڈیٹر کی جانب سے ممکنہ امریکی امن منصوبے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔ اس وقت فلسطین امن عمل شروع نہیں کرنا چاہتے۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھی اس میں کوئی دلچسپی ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔‘

یہودی بستیوں کے امن منصوبے کا حصہ ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا ’ہم ان بستیوں سے متعلق بات کریں گے۔ ان بستوں نے چیزوں کو ہمیشہ پیچدہ بنایا اور میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرقی یروشلم اور مغربی پٹی میں سنہ 1967 کے بعد سے تعمیر کی جانے والے یہودی بستوں میں چھ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں

مشرقی یروشلم اور مغربی پٹی میں سنہ 1967 کے بعد سے تعمیر کی جانے والے یہودی بستوں میں چھ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبادکاری غیر قانونی ہے تاہم اسرائیل اس بات کی مخالفت کرتا ہے۔

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یروشلم کا دارالحکومت ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک اہم چیز تھی۔ میں نے ایک اہم وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا۔‘

اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بعد امریکہ کو مزید ثالث کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی بارے میں