اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطینی لڑکی عدالت میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احد تامیمی کا ان اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ وہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا تھا

ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے اور دیگر الزامات میں 17 سالہ فلسطینی لڑکی احد تمیمی کے خلاف مقدمے کا آغاز ہوگیا ہے۔

احد تمیمی کی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیل فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

17 سالہ احد تمیمی کے خلاف 12 دفعات عائد کی گئی ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے اور اشتعال انگیزی کے الزامات شامل ہیں۔

اگر ان پر الزامات ثابت ہوگئے تو انھیں ایک لمبے عرصے کے لیے قید کی سزا ہو سکتی ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے احد تمیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئی ہیں۔ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد شخص سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احد کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو احد تمیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔ یہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا تھا۔

بعد میں احد تمیمی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption احد تمیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں منظر عام پر آئی تھیں جب انھیں ایک ویڈیو میں ایک فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا تھا

اس واقعے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نے کہا تھا کہ احد تمیمی اور ان کی والدہ کو ’اپنی باقی کی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے‘۔

دو سال قبل احد تمیمی کی ہی ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی نے ان کے بھائی کو پتھر پھینکنے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔

اُس موقعے پر ترک وزیراعظم طیب رجب اردوغان نے ان کی تعریف کی تھی اور انھیں ’بہادری‘ کا ایوارڈ دیا تھا۔

احد تمیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں منظر عام پر آئی تھیں جب انھیں ایک ویڈیو میں ایک فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

فلسطینی انھیں اب ایک ایسی قومی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک مقبوضہ سرزمین پر بہادری سے فوجیوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں۔

انٹرنیٹ پر جاری ایک مہم میں 17 لاکھ افراد نے ان کی رہائی کی حمایت کی ہے۔

خصوصی عدالتیں

احد تمیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن انھوں نے ان فوجیوں کی جانب سے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کو احد تمیمی کے گھر اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ احد تمیمی کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں میں 1400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔

سول حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالتی نظام میں بنیادی تحفظات موجود نہیں ہیں اور اسرائیل کا نظام ایک منصفانہ مقدمے کی گارنٹی نہیں دیتا۔

متعلقہ عنوانات