شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں 'حسن کی فوج'

  • لارا بیکر
  • پیونگچین
شمالی کوریا کی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے میزائل چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اسلحہ خانے میں کئی دوسرے طاقتور ہتھیار بھی ہیں۔ یہ ہتھیار ان کی مشینیں نہیں بلکہ یہ ان کی خواتین سفیر ہیں۔

ان میں سے حال میں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والی ان کی بہن کم یو جونگ ہیں۔ کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کے ذہن و دل پر چھا گئیں۔

جب انھوں نے اپنے بھائی کے پیغام کے ساتھ جنوبی کوریا کے ایوان صدر میں قدم رکھا تو ٹی وی پر ان کے ہر انداز کو دکھایا گيا۔

کم یو جونگ کے زرق برق لباس، ان کی زلفیں اور ان کے انداز کی امریکہ میں بھی گونج سنی گئی اور ٹی وی چینلوں پر پابندی کے باوجود وہ موضوع بحث رہیں۔

سرمائی اولمپکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں لوگوں کی توجہ کا مرکز تھیں

کم یو جونگ نے جب جنوبی کوریا کے پیونگچین میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں شرکت کی تو ناظرین کی نگاہیں اور ان کے موبائل ان کی طرف گھوم گئیں اور وہ پراسرار ملک کے انسانی چہرے کے طور پر سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک نوجوان نے کہا: 'یہ حیرت انگیز ہے، معجزہ ہے۔ میں نے شمالی کوریا کا یہ چہرہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔' دوسرے نے کہا: 'میرا دل پگھل رہا ہے۔'

خیا رہے کہ وہ پیونگچین میں اپنے بھائی کی شبیہ بدلنے آئی تھیں اور انھوں نے میڈیا میں کم از کم اپنے ملک کی تصویر تو بدل دی۔

پیانگ یانگ میں خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے سابق بیورو چیف ژاں لی کہتے ہیں: 'جنوبی کوریا کے لوگوں کے لیے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔

تصویر بدل دی۔۔۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے جنوبی کوریا میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور شمالی کوریا کا انسانی چہرہ پیش کیا

ژاں لی کہتے ہیں: انھوں نے خوبصورت ترین خاتون کو یہاں بھیجا۔ جب آپ شمالی کوریا جائیں گے ہیں، تو ایسی خوبصورت خواتین آپ کو لبھائیں گی۔

'ان کا یہی کام ہے کہ وہ لوگوں کو احساس دلائيں کہ ان کا ملک اور وہاں کے لوگ اتنے برے نہیں ہیں۔'

شمالی کوریا کی امیج بدلنے کا کام کچھ دن قبل شروع ہوا جب خواتین کا ایک گروپ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا کی 'حسن کی فوج' جب جنوبی کوریا پہنچی تو جنوبی کوریا کے خوبصورت نظر آنے کی چاہ رکھنے والی آبادی کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔

ایک سابق چیئر لیڈر کا ڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا کے چیئر لیڈرز کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کا وقار بڑھانے کے لیے وہاں ہیں

شمالی کوریا کی چيئرليڈر گروپ کی سابق رکن ہین سوہے نے بتایا: 'ہم لوگوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم یہ ظاہر کریں کہ شمالی کوریا ایک سماجی اور خود کفیل ملک ہے۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ ہم دشمنوں کے دل میں اترنے جا رہے ہیں اور یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ ہم میں غیور ہیں۔

ہین سوہے کو اس وقت شمالی کوریا چھوڑنا پڑا جب ان کے بھائی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اگر وہ وہاں رہتیں تو انھیں اور ان کے خاندان کو قید کی سزا ہوتی۔ اب وہ جنوبی کوریا میں آباد ہیں۔

وہ شمالی کوریا میں ٹریننگ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: 'ہم لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ آپ دوسرے ملک میں اپنے ملک اور اپنے لیڈر جنرل کم کا احترام بڑھانے جا رہے ہیں۔ میری ساتھی کہتی تھی کہ وہ اپنے ملک کو نہ بھولے اس لیے وہ سوٹ کیس میں اپنے ملک کی مٹی اور کم جونگ کے والد کا ایک چھوٹا سا مجسمہ ساتھ لائی تھی۔'

ثقافتی فرق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز اور جنوبی کوریا کی چیئر لیڈرز میں ثقافتی فرق بھی نظر آيا

پیونگچین میں آئس ہاکی میچ کے دوران دو ممالک کے درمیان کا ثقافتی فرق بھی نظر آیا۔

جہاں جنوبی کوریا کی چیئر لیڈرز مختصر سکرٹ اور بوٹوں میں رقص کرتی نظر آئیں وہیں شمالی کوریا والے وطن پرستی کے نغمے سے حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے۔

ہین سوہی سنہ 2003 کے ایک واقعے کی یاد سے ڈر جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'جب چيئرليڈرز جنوبی کوریا پہنچیں، اس وقت بارش ہو رہی تھی۔ ایک چيئرليڈر کے ہاتھ میں کم جونگ ال کا پرچم تھا، وہ بھیگ گیا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے جو لوگوں کو متاثر کرنے کی پوری تیاری میں نکلی ہیں

'تمام چیئر لیڈرز بس سے نیچے آ کر پرچم کو بچانے لگيں۔ جنوبی کوریا کے لوگوں کے لیے یہ عجیب بات تھی۔ یہ فرق شمالی اور جنوبی کوریا میں ہے۔'

شمالی کوریا کے امور کے ماہر ایان بریمر نے ٹویٹ کیا: 'شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

'لیکن وہ ایک مجرم ملک میں یرغمال ہیں اور یہ یہ دل کو افسردہ کرنے والی بات ہے۔'

بہر حال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی لبھانے کی قوت کی اپنی حدیں ہیں۔