ملائیشیا میں ’کتے کے ساتھ رہنے پر مجبور‘ گھریلو ملازمہ ہلاک

ایڈیلینا تصویر کے کاپی رائٹ STEVEN SIM OFFICE

ملائیشیا میں ایک سیاست دان کا کہنا ہے کہ ایک گھریلو ملازمہ کی اپنے آجر کے مبینہ برے سلوک کی وجہ سے موت واقع ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والی ملازمہ کا نام ایڈیلینا ہے اور ان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔

وہ ملائیشیا میں ایک خاندان کے لیے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

ایڈیلینا کے آجر پر الزام ہے کہ وہ انھیں کھانا فراہم نہیں کرتے تھے اور انھیں زخموں کا علاج کروانے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

جدید غلامی: 'میں نے زندہ رہنے کے لیے کتے کا کھانا کھایا'

خلیجی ممالک کی بلیک مارکیٹ میں گھریلو ملازمین کی خرید و فروخت

ایڈیلینا کو دس فروری کو اس وقت بچایا گیا تھا جب ان کے ایک پڑوسی نے ان کی حالت کے بارے میں سیاست دان سٹیون سم کو اطلاع دی اور انھیں اتوار کو ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIGRANT CARE

پولیس نے ملائیشیا کی سرکاری نیوز ایجنسی برناما کو بتایا کہ ایک 36 سالہ خاتون اور ان کے بھائی سے اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ان کی 60 سالہ والدہ کو بھی پولیس حراست میں رکھا گیا ہے۔

سیاست دان سٹیون سم نے بی بی سی انڈونیشیا کو بتایا ’ایڈیلینا کی موت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے برے سلوک کی وجہ سے ملائیشیا کے شہری بہت غصے میں ہیں۔‘

سٹیون سم سنیچر کو تفتیش کے لیے اس آجر کے گھر گئے۔

ان کے بقول ’ایڈیلینا کی حالت بہت کمزور تھی اور ان کے ہاتھ پر شدید چوٹوں کے نشان تھے۔‘

انھوں نے کہا ’گذشتہ ماہ ایڈیلینا کو اپنے آجر کے کتے کے ساتھ باہر سونے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انھیں کھانا نہیں دیا گیا اور اس کے ساتھ برا سلوک روا رکھا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ POR CHENG HAN

انڈونیشیا کے شہری تحفظ کے ادارے کے ڈائریکٹر لالو محمد اقبال نے بتایا کہ ایڈیلینا کی موت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان کی موت ممکنہ طور پر کتے کے کاٹنے، اس کا علاج نہ ہونے اور خوراک کی کمی ہو سکتی ہے۔

یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایڈیلینا کے جسم پر ایسے زخم تھے جن کا علاج نہیں کیا گیا جس سے ان کے زخم خراب ہو گئے اور ان کی موت واقع ہو گئی۔

بی بی سی انڈونیشیا نے ملائیشیا کی وزارتِ برائے انسانی وسائل سے رابطہ کیا تاہم انھوں نے صرف یہ بتایا کہ چونکہ پولیس اس کی تفتیس کر رہی ہے اس لیے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔

انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ ریتنو مرسودی کا کہنا کہ کہ وہ ایڈیلینا کے لیے انصاف چاہتی ہیں۔

انھوں نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ ’انڈونیشیا کا قونصلیٹ جنرل قانونی مدد فراہم کرے تاکہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ ہو سکے خاص طور پر قانونی انصاف کا حق۔‘

خیال رہے کہ ملائیشیا ایشیائی مزدوروں کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔

انڈونیشیا کے شہری تحفظ کے ادارے کے ڈائریکٹر لالو محمد اقبال نے بتایا ایک اندازے کے مطابق انڈونیشیا کے 25 لاکھ افراد ملائیشیا میں ملازمت کرتے ہیں جن میں سے نصف غیر قانونی ہیں۔

ان کے مطابق دیگر گھریلو ملازم میانمار، فلپائن، ویت نام، بنگلہ دیش، لاؤس، کمبوڈیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ سے آتے ہیں۔

محمد اقبال کا کہنا ہے کہ وہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کی حکومتوں سے گھریلو ملازمین کی حفاظت کے لیے قوانین کو کو بہتر بنانے پر زوز دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں