آسٹریلوی سیکس سکینڈل: وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم کی بیان بازی

آسٹریلیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بارنبی جوئس ایک ہفتے تک کام پر نہیں آئیں گے

آسٹریلیا میں غیرازدواجی تعلقات کے بارے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے بعد نائب وزیرِ اعظم بارنبی جوئس نے وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بل پر شدید تنقید کی ہے۔

ٹرن بل نے جوئس پر الزام لگایا تھا کہ ان سے فیصلے کی زبردست غلطی ہوئی ہے کیوں کہ انھوں نے شادی شدہ ہونے کے باوجود ایک ماتحت سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ اس کے بعد سے وزیرِ اعظم نے وزرا اور عملے کے ارکان کے درمیان جنسی تعلقات پر پابندی لگا دی تھی۔

اب جوئس نے وزیرِ اعظم کو نااہل کہتے ہوئے ان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے 'غیر ضروری' بیان بازی کر کے میرے خاندان کو مزید تکلیف دی ہے۔

وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ٹرمپ کے وکیل کا اعتراف کہ پورن سٹار کو پیسے دیے تھے

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

وزیر اعظم کی یہ تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے نائب وزیر اعظم کا اپنے عملے میں سے ایک فرد کے ساتھ جنسی تعلق ہے۔

بارنابی جوئس کو چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس بارے میں گفتگو جاری ہے کہ آیا وہ وزیر کی حیثیت سے کام کرنے کے لائق ہیں یا نہیں۔

وزیر اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا کہ وہ وزرا کے لیے بنائے گئے ضابطہ اخلاق کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔ 'وزرا کا رویہ اپنے مرتبے کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ وہ اپنے عملے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھ سکتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل وزیر اعظم ٹرن بل نے پارلیمان کو بتایا کہ بارنبی جوائس ان کے دورہ امریکہ کے دوران ملک کے قائم مقام وزیر اعظم کا عہدہ نہیں سنبھالیں گے۔

اس تنازع کی خبر گذشتہ بدھ سے آسٹریلوی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے جب بارنابی جوائس کے وکی کیمپیؤن کے ساتھ تعلقات کی خبر منظر سامنے آئی تھی۔

میلکم ٹرن بل نے کہا کہ بارنبی جوائس پیر کے دن سے کام پر نہیں آئیں گے جب کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے نائب وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں