امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید: امریکہ میں شوٹنگز ’دعاؤں سے نہیں، عمل سے ختم ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک نوجوان کی جانب سے سکول میں فائرنگ کر کے 17 افراد کی ہلاکت کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے صدر ٹرمپ پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد 'دعائیں اور تعزیت' بھیجی ہے، لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ناکافی ہے۔

سیاست دان، اداکار اور مصنفین ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اسلحے کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ: فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ سے 17 ہلاک

فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ کرنے والا کون تھا؟

’طالب علم سمجھے کہ مشق ہو رہی ہے‘

اس واقعے میں ہلاک ہونے والی ایک 14 سالہ طالبہ کی والدہ نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این پر آ کر روتے اور چیختے ہوئے کہا: 'یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک پاگل شخص اسلحہ لے کر سکول میں داخل ہوتا ہے، میری بیٹی کے کمرے کا دروازہ توڑتا ہے اور اسے گولی مار کر قتل کر دیتا ہے۔

'صدر ٹرمپ، آپ کہتے ہیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کے ہاتھ اسلحہ نہ لگنے دیں۔ آپ سکولوں کے باہر میٹل ڈیٹیکٹر لگا سکتے ہیں۔ آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

'ہم اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے سکول بھیجتے ہیں، قتل ہونے کے لیے نہیں۔'

2013 کے بعد سے امریکہ میں اب تک سکولوں میں فائرنگ کے 291 واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کی شرح ایک واقعہ فی ہفتہ بنتی ہے۔

لیکن ابھی تک اسلحہ پر قابو پانے کے لیے موثر قانون سازی نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلحہ رکھنا ان کا آئینی حق ہے۔

اسلحے کے حق کی حامی طاقتور تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کی لابی انگ اتنی مضبوط ہے کہ وہ اس ضمن میں ہونے والی کسی بھی قانون سازی کے آڑے آتی ہے۔

ہالی وڈ کے اداکار مارک رفلو نے ٹویٹ کی کہ عمل کے بغیر الفاظ بےمعنی ہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں لاس ویگس میں فائرنگ میں 59 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ وقت اسلحے پر بات کرنے کا نہیں ہے۔

لاس ویگس حملہ آور نے ہوٹل میں کیمرے لگا رکھے تھے

فلوریڈا میں فائرنگ کے حالیہ واقعے کے بعد انھوں نے کہا کہ اس علاقے کا دورہ کریں گے۔ انھوں نے دماغ مرض کی بات بھی کی لیکن اسلحے یا اسلحے کے قانون کا ذکر نہیں کیا۔

رائے عامہ کے نتائج کے مطابق اسلحہ رکھنے کے حق کے حامیوں کی بڑی تعداد نے گذشتہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔

مصنف سٹیون کنگ نے لکھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ میں اسلحے کا قانون تبدیل ہو گا۔

کم کارڈیشیئن نے بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ معاملہ دعاؤں سے حل نہیں ہو گا۔ انھوں نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ اسلحے کی وجہ سے ہونے والے لایعنی تشدد کو ختم کرنے کے لیے کام کریں۔

ایک سوشل میڈیا صارف پیٹریشا آرکیٹ نے لکھا: 'اگر لوگ منشیات فروشوں پر نشے کے مسئلے کا الزام لگا سکتے ہیں تو فائرنگ کے مسئلے کا الزام بھی این آر اے پر لگایا جا سکتا ہے۔'

اسی بارے میں