ٹرمپ کےسابق مشیر سے 20 گھنٹے تک پوچھ گچھ

سٹیو بینن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

سٹیو بینن نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی روسی حکام سے ہونے والی ملاقات 'غداری' کے زمرے میں آتی ہے

امریکہ کے صدراتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیات کرنے والے خصوصی کونسل رابرٹ مولر کی ٹیم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق چیف سٹریٹیجسٹ سٹیو بینن سے بیس گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی ہے۔

سٹیو بینن نے رواں ہفتے دو بار خصوصی کونسل رابرٹ مولر کی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر سوالوں کے جوابات دیئے۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ، ایوان نمائندگان اور خصوصی کونسل تمام مل کر صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ سٹیو بینن اس سے پہلے ایوان نمائندگان کی خصوصی کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہو چکے ہیں لیکن انھوں نے وہاں یہ کہہ کر سوالوں کے جوابات دینے سے انکار کیا تھا کہ انھیں وائٹ ہاؤس نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے کسی قسم کی معلومات کمیٹی کو دینے سے منع کر رکھا ہے۔

سٹیو بین صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے چیئرمین تھے اور انتخابات میں کامیابی کے بعد صدر ٹرمپ نے انھیں وائٹ ہاؤس میں چیف سٹریٹیجسٹ کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔

سٹیو بین انتہائی دائیں بازو کے خیال کے حامل شخص ہیں اور انھوں نے ہی صدر ٹرمپ کی 'امریکا سب سے پہلے' کی مہم بنانے میں مدد کی تھی۔ ۔ صدر ٹرمپ کے سابق چیف سٹریٹیجسٹ سٹیو بینن کو ان کی انتخابی مہم اور اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں نہایت اہم شخصیت سمجھا جاتا رہا تھا لیکن اگست میں انھیں وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا۔

صحافی مائیکل وولف کی کتاب فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں سٹیو بینن سے منصوب کرتے ہوئے لکھا کہ صدر ٹرمپ کے بیٹے کی روسی حکام سے جون 2016 میں ہونے والی ملاقات ’غداری‘ کے زمرے میں آتی ہے۔

تاہم انھوں نے بعد میں اپنے موقف کو بدلنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کا اشارہ پال منافورٹ کی جانب تھا جو اس وقت وہاں موجود تھے اور صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کو ’اچھا انسان اور حب الوطن‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP

خیال رہے کہ سٹیو بینن کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب سے سٹیو بینن کو وائٹ ہاؤس کی نوکری سے فارغ کیا گیا ہے ان کا 'دماغ خراب ہو گیا ہے'۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سٹیو بینن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایف بی آئی کے سربراہ جمیز کومی کو عہدے سے برخاست کرنے کی وجوہات کے بارے میں انتہائی اہم معلومات رکھتے ہیں۔

جیمز کومی ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ انھیں اس پر کوئی شک نہیں کہ انھیں عہدے سے ہٹانے کی وجہ مبینہ روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات تھیں۔ وائٹ ہاؤس جیمز کومی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ خصوصی کونسل نے سٹیو بینن سے کن کن سوالات کے جوابات مانگے لیکن کہا جا رہا ہے کہ سٹیو بینن بیس گھنٹوں تک خصوصی کونسل رابرٹ مولر کی ٹیم کے ساتھ رہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سٹیو بینن نے ہر اس سوال کا جواب دیا ہے جو ان کیا گیا۔