ترکی اور امریکہ باہمی اختلاف ختم کرنے پر متفق

ریکس ٹلرسن اور مولود چاوشلو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی وزیر خارجہ کے انقرہ کے دورے سے امریکی خارجہ پالیسی میں ترکی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے

امریکہ اور ترکی نے کہا ہے کہ شام میں کردوں کے خلاف ترک فوج کی کارروائی پر دنوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے شدید اختلافات کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے۔

انقرہ میں مذاکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکہ نے کرد جنگجوؤں کی محدود پیمانے پر امداد کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

ریکس ٹلرسن نے کہا کہ کرد جنگجوؤں کو امریکی ہتھیار کی فراہمی محدود اور پہلے سے متعین کرد کارروائیوں کے لیے ہو گی۔

ترکی کی سرحد سے ملحقہ شامی علاقے میں موجود کرد جنگجوؤں کو ترکی اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے اور ان جنگجوؤں کو امریکی امداد فراہم کیے جانے پر وہ شدید تشویش کا شکار ہو گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ سے مذاکرات کے بعد طے کیے جانے والے طریقہ کار کے تحت اب مشترکہ ورکنگ گروپس بنائے جائیں گے جو اس معاملے پر اختلاف کو کم کرنے کے علاوہ کشیدگی کا باعث بننے والے دیگر امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے انقرہ کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی کو امریکی خارجہ پالیسی میں کتنی اہمیت حاصل ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوشلو نے کہا کہ شام میں امریکہ اور ترکی کے اہداف مشترک ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں