ترکی: فوجی بغاوت سے تعلق پر چھ ترک صحافیوں کو عمر قید

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کی ایک عدالت نے چھ صحافیوں کو جولائی 2016 میں ہونے والی فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں سے مبینہ تعلقات پر عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

دوسری جانب ایک اور ترک عدالت نے بغیر کسی مقدمے کے زیرحراست ایک ترک نژاد جرمن صحافی ڈینز یوسل کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

ناکام بغاوت کے ایک سال بعد ترکی میں ہزاروں برطرفیاں

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال

ترکی میں ’گولن تحریک کے ایک ہزار حامی‘ گرفتار

قید کی سزا پانے والے چھ صحافیوں پر امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے ساتھ تعلقات کا جرم ثابت ہوا ہے۔ ترکی کی موجودہ حکومت نے ناکام بغاوت کا الزام فتح اللہ گولن پر عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے صحافیوں کو عمر قید کی سزا کے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔

جن چھ صحافیوں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں نازلی الیجک، احمد التان، محمد التان، فیوزی یازیجی، یعقوب سمسیک اور سکرو تغرل اوزسین گل شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے آزادی اظہار رائے ڈیوڈ کائے اور آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای) کی آزادی اظہار رائے کی نمائندہ ہرلم ڈیسر کا کہنا ہے کہ 'یہ سخت سزائیں آزادی اظہار اور ترکی میں ذرائع ابلاغ پر ناقابل قبول اور بے مثل حملہ ہیں۔'

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق استنبول کی عدالت نے انھیں 'ترک آئین کے مقررہ حکم نامہ ختم کرنے کی کوشش کی یا نیا حکم نامہ جاری کرنے کی کوشش' کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

سزا پانے والے تمام افراد نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جن چھ صحافیوں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں نازلی الیجک بھی شامل ہیں

التان بھائی، جو سینیئر صحافی اور مصنفین ہیں، پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھیں نے بغاوت کی شام ٹی وی ٹاک شو میں خفیہ پیغامات دیے تھے۔

نازلی الیجک بھی ترکی کی ایک نامور صحافی ہیں اور حریت اور صباح جیسے اخبارات میں لکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ 15 جولائی 2016 میں ترکی کے کچھ فوجی افسران نے صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں 250 مظاہرین ہلاک ہو گئے۔

ترکی میں ’گولن تحریک کے ایک ہزار حامی‘ گرفتار

ترکی میں بغاوت کی اس ناکام کوشش کے بعد سے اب تک ترک حکام 50 ہزار افراد کو گرفتار کر چکے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے جن میں صحافی، اساتذہ، پولیس اہلکار اور عدالتی اہلکار بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں