ایران دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے: اسرائیلی وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے 'دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ' قرار دیا ہے۔

بن یامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 'ایرانی حکمرانوں کو دہشت گردی کا پھندہ ہماری گردن میں ڈالنے نہیں دے گا۔'

اسرائیلی وزیر اعظم نے 2015 میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کو سنہ 1938 میں ہونے والے میونخ معاہدے سے تشبیہ دی جس میں نازی جرمنوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا گیا تھا۔

ایران اسرائیل تعلقات کے بارے میں مزید پڑھیے

ایران کے ’میزائل تجربے‘ پر اسرائیل ناراض

اسرائیل کی شام میں فضائی حملوں کے بعد ایران کو تنبیہ

ایران شام اور لبنان میں میزائل فیکٹریاں بنا رہا ہے: اسرائیل

انھوں نے الزام لگایا کہ اس معاہدے کے بعد سے 'ایرانی شیر آزاد ہو گیا ہے۔'

'ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا دفاع کریں گے اور ہم ہر ایکشن لیں گے جو ہم ضروری سمجھتے ہیں جو کہ نہ صرف ایران کا ساتھ دینے والوں کے خلاف ہوگا بلکہ وہ ایران کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔'

بن یامین نتن یاہو نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کو ’جھوٹا‘ قرار دیا اور کہا کہ 'وہ بہت شستہ انداز میں ایرانی حکمرانوں کا موقف بیان کرتے ہیں جو کہ درحقیقت جھوٹ پر مبنی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیل کی حدود میں ڈرون بھیجا تھا اور اب اس سے انکاری ہے۔

لوہے کے ٹکڑے کو فضا میں بلند کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ یہ تباہ کیے گئے ڈرون کے ملبے میں سے ملا ہے۔ انھوں نے جواد ظریف کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ 'کیا آپ اسے پہچانتے ہو؟ جانتے ہی ہو گے کیونکہ یہ تمہارا ہے اور یہ لے کر تم تہران کے غاصب حکمرانوں کو پیغام پہنچا دو کہ اسرائیل کے عزم کا امتحان نہ لیں۔'

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو تقریر کا موقع ملا جس میں انھوں نے اسرائیلی تنقید پر کہا کہ یہ 'مضحکہ خیز کرتب' ہے۔

اپنے خطاب میں جواد ظریف نے بتایا: 'آپ نے آج صبح ایک مضحکہ خیز کرتب دیکھا جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کا کوئی جواب دیا جائے۔'

انھوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے کہا کہ 'ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا جس کو ناکام بنانے کی لیے نتن یاہو نے متعدد کوششیں کی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے بھی میونخ کانفرنس سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ الزام کے ایران دس سال میں جوہری بم تیار کر لے گا 'بنیادی طور پر غلط ہے۔'

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعات گذشتہ چند برسوں میں بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل 2015 میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کا سخت مخالف ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر اس تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے کہ ان کے اپنے ملک میں ان کے خلاف کرپشن کا الزام ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں