سعودی عرب پہلے فیشن شو کے لیے تیار

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض آئندہ ماہ ملک کی تاریخ کے پہلے فیشن شو کی میزبانی کرے گا۔

اس بات کا اعلان شہزادی نورا بنت فیصل نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ شہزادی نورا بنت فیصل عرب فیشن کونسل کی اعزازی صدر ہیں۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے مدیر اشر سبیسٹیئن کا کہنا ہے کہ یہ فیشن شو سعودی عرب میں ثقافتی جدت لانے کی حالیہ کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘

سعودی عرب میں خواتین کے لیے گاڑیوں کا پہلا شو روم

نامہ نگار کا کہنا تھا کہ ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملک کو روایتی قدامت پسندی سے علیحدہ ایک نئی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد سعودی نوجوانوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ ان کا مستقبل روشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ فیشن سو میں جن ملبوسات کی نمائش کی جائے گی وہ سعودی عرب میں لباس کے حوالے سے قدرے قدامت پسند اقدار کی ہی عکاسی کریں گے مگر ان اقدامات کا مقصد سعودی معیشت میں بہتری لانا اور غیر ملکیوں کو ملک میں خریداری کرنے کی طرف مائل کرنا بھی ہے۔

عرب فیشن کونسل کے زیرِ اہتمام یہ فیشن شو 26 مارچ سے 31 مارچ تک جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یاد رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار شہر جدہ میں خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا ہے جس کے تحت بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت اور خوانین کو تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں شعودی عرب میں ایک گازیوں کا شو روم کھولا گیا تھا۔ گذشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب میں ٹریفک قوانین میں ترمیم کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت خواتین کو گاڑی کے ساتھ اب موٹر سائیکل اور ٹرک تک چلانے کی اجازت ہو گی۔

اسی بارے میں